اسلام آباد ۔ 13 مئی (اے پی پی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی ) نے زراعت کوترقی دینے اورکسانوں وکاشت کاروں کومعاونت فراہم کرنے کے سلسلے میں کئی ارب روپے مالیت کے پیکج کی منظوری دیدی ہے، پیکج کے تحت کسانوں کوکھاد پرزرتلافی دی جائیگی، زرعی قرضوں پرشرح سودمیں کمی لائی جائیگی، کاٹن سیڈز اورسفید مکھی کے خاتمہ کیلئے کیڑے مار ادویات کی خریداری اورمقامی طور پر …
مشیر خزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 13 مئی (اے پی پی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی ) نے زراعت کوترقی دینے اورکسانوں وکاشت کاروں کومعاونت فراہم کرنے کے سلسلے میں کئی ارب روپے مالیت کے پیکج کی منظوری دیدی ہے، پیکج کے تحت کسانوں کوکھاد پرزرتلافی دی جائیگی، زرعی قرضوں پرشرح سودمیں کمی لائی جائیگی، کاٹن سیڈز اورسفید مکھی کے خاتمہ کیلئے کیڑے مار ادویات کی خریداری اورمقامی طور پر تیار کردہ ٹریکٹروں پرسیلز ٹیکس میں سبسڈی اس پیکج کا حصہ ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کااجلاس بدھ کویہاں وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت منعقد ہوا۔زرعی پیکج چھوٹے اوردرمیانہ درجہ کے کاروبار (ایس ایم ایز) اورزرعی شعبہ کیلئے کورونا وائرس کی وباءکے اثرات سے نمٹنے کیلئے وزیراعظم کے 1200 ارب روپے سے زائد مالیت کے امدادی پیکج کا حصہ ہے۔وفاقی وزارت قومی غذائی تحفظ وتحقیق نے 56.6 ارب روپے مالیت کے زرعی پیکج کی تجویز دی تھی تاہم اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزارت کوہدایت کی کہ اس پیکج کو چھوٹے اوردرمیانہ درجہ کے کاروبار اورزرعی شعبہ کیلئے کورونا وائرس کی وباءکے اثرات سے نمٹنے کیلئے وزیراعظم کے 1200 ارب روپے سے زائد مالیت کے امدادی پیکج کے مطابق معقول بنایا جائے ، وزیراعظم کے امدادی پیکج میں ایس ایم ایز کیلئے 100 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ای سی سی نے ایس ایم ای کے شعبہ کو بالواسطہ طریقے سے کیش معاونت کے ضمن مین 50 ارب روپے کے پیکج کی پہلے سے منظوری دی ہے، اس کے تحت 35 لاکھ افرادکو پری پیڈ بجلی کی سہولت دی جارہی ہے۔وزارت قومی غذائی تحفظ وتحقیق نے متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر جو پیکج تیارکیاہے اس میں کسانوں کوکھادوں کی خریداری پر37 ارب روپے کی سبسڈی دی جائیگی۔اس میں ڈی اے پی اورفاسفیٹ کھادوں کی فی بوری پر 925 روپے اور یوریا ونائٹروجن کھادوں پرفی بوری 243 روپے کی زرتلافی دی جائیگی۔ای سی سی کوبتایاگیا کہ خریف سیزن میں 3.04 ملین یوریا اور0.95 ملین ٹن ڈی اے پی کی کھپت کا اندازہ ہے۔زرتلافی سکیم پرصوبے عمل درآمد کریں گے، زرتلافی کے پیسے سکریچ کارڈ سکیم کے ذریعے دئیے جائیں گے اس سکیم پرپنجاب میں پہلے سے عمل درآمد شروع ہوچکاہے۔ زرعی پیکج کے تحت زرعی قرضوں پر مارک اپ میں کمی کیلئے 8.8 ارب روپے اورکاٹن سیڈز وسفید مکھی کے خاتمہ کیلئے کیڑے مارادویات پر سبسڈی کے ضمن میں بالترتیب6 ارب اور2.5 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، اس پیکج میں ایک سال کی مدت کیلئے مقامی طورپرتیارکردہ ٹریکٹروں پرسیلزٹیکس کی مد میں 2.5 ارب روپے کی زرتلافی شامل ہے۔اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 12.5 ایکڑ رکھنے والے کاشت کاروں تک رسائی بڑھانے کیلئے زیڈ ٹی بی ایل کے ساتھ ساتھ دیگر بنکوں کوبھی شامل کرنے کی ضرورت پرزوردیا۔اجلاس میں تجویز دی گئی کہ چونکہ مارک اپ کا تعین سٹیٹ بنک کرتا ہے اسلئے پیکج میں مارک اپ کی شرح کو سٹیٹ بنک کی شرح کے مطابق معقول بنایا جائے۔ای سی سی نے سکریچ کارڈ سسٹم کیلئے جامع طریقہ کاروضع کرنے کی ہدایت کی تاکہ حق داروں تک زرتلافی کی فراہمی کوممکن بنایا جاسکے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ سبسڈی کے بعد کھادوں کی طلب بڑھ جائیگی اسلئے وزارت صنعت وپیداوارکو پہلے سے آگاہ کیا جائیگا تاکہ اس حوالہ سے پیشگی انتظامات کویقینی بنایا جاسکے۔وزیرقومی غذائی تحفظ وتحقیق نے ای سی سی کو یقین دلایا کہ کھادوں کی باقاعدہ آف ٹیک سبسڈائز ہے تاہم اضافہ کی صورت میں متعلقہ وزارت سے رابطہ کیا جائیگا۔اقتصادی رابطہ کمیٹی نے تخفیف غربت وسماجی تحفظ ڈویژن کی جانب سے لائن آف کنٹرول کے قریب رہنے والے آبادی کیلئے خصوصی ریلیف پیکج کے ضمن میں یکم جنوری 2020ءسے لیکر30 جون 2020ءتک ماہانہ 12000 روپے کی تجویز کی منظوری دیدی تاہم یکم جولائی سے لیکر31 دسمبر 2020ءتک ان خاندانوں میں ماہانہ 2 ہزار روپے تقسیم ہوں گے۔اجلاس میں وزارت دفاع کی تجویز پر پی او ایل، یوٹیلیٹیز و میڈیکل سٹوروں کے اخراجات کیلے 16.6 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی، وزارت خزانہ کی تجویز پر پاکستان مشین ٹول فیکٹری کے ملازمین کیلئے اکتوبر 2019ءسے لیکرجون 2020 تک کی مدت کیلئے تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے 288 ملین روپے کی گرانٹ کی منظوری دی گئی،وزارت قانون کی تجویز پرای سی سی نے فیڈرل جوڈیشل اکیڈیمی کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے 40 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی۔ای سی سی نے وزارت صنعت وپیداوارکی جانب سے پاکستان سٹیل ملز کے ہیومین ریسورس ریشنلایزیشن کی ایک تجویز کا جائزہ لیا ، اس تجویز کے تحت 8 ہزار سے لیکر9 ہزارتک ملازمین کو ریٹائرمنٹ اورٹرمینیشن پر 18.74 ارب روپے کی ادائیگی کی جائیگی ۔ای سی سی نے تجویز کاتفصیل سے جائزہ لیااور ہدایت کہ پاکستان سٹیل ملز کی منیجمنٹ کے ساتھ مل کراس سکیم پردوبارہ کام کیا جائے ،اس سکیم مین زیادہ سے زیادہ ملازمین کو شامل کیا جائے اوریہ تجویز دوبارہ ای سی سی کے سامنے لائی جائے ۔اجلاس میں وزارت صنعت وپیداوارکی جا
نب سے موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی کا تفصیلی جائزہ لیاگیا، ای سی سی نے اس کے مختلف پہلووں پرروشنی ڈالی اوراس کی منظوری دیدی،ای سی سی نے وزارت کو ہدایت کی کہ اس پالیسی کے بعض خصوصیات اورترغیبات کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ مقامی طورپرموبائل سازی کویقینی بنانے کے ساتھ ساتھ اس کی برآمد بھی ممکن ہوسکے۔ای سی سی نے وزارت قومی غذائی تحفظ وتحقیق کی تجویز پرپاسکو سے آزادکشمیر کیلئے 35 ہزارمیٹرک ٹن گندم جاری کرنے کی منظوری دیدی جس پر1.52 ارب روپے کے اخراجات آئیں گے اس میں سے 50 فیصد رقم وفاقی حکومت فراہم کرے گی۔







