مصنف، محقق، ماہرِ لسانیات، نقاد، معلم اور مدیر ڈاکٹر فرمان فتح پوری کی سالگرہ منائی گئی

اسلام آباد۔26جنوری (اے پی پی):مصنف، محقق، ماہرِ لسانیات، نقاد، معلم اور مدیر ڈاکٹر فرمان فتح پوری کی سالگرہ پیر 26 جنوری کو منائی گئی۔ڈاکٹر فرمان فتح پوری کا حقیقی نام سید دلدار علی تھا اور ان کی پیدائش 26 جنوری 1926 اترپردیش ، فتح پور میں ہوئی۔ انہوں نے فتح پورسے میٹرک پاس کرنے کے بعد الہ آباد سے انٹر جبکہ 1950میں آگرہ یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ …

اسلام آباد۔26جنوری (اے پی پی):مصنف، محقق، ماہرِ لسانیات، نقاد، معلم اور مدیر ڈاکٹر فرمان فتح پوری کی سالگرہ پیر 26 جنوری کو منائی گئی۔ڈاکٹر فرمان فتح پوری کا حقیقی نام سید دلدار علی تھا اور ان کی پیدائش 26 جنوری 1926 اترپردیش ، فتح پور میں ہوئی۔ انہوں نے فتح پورسے میٹرک پاس کرنے کے بعد الہ آباد سے انٹر جبکہ 1950میں آگرہ یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔

ڈاکٹر فرمان فتح پوری 1950میں ہجرت کے بعد کراچی پاکستان آ گئے اور کراچی یونیورسٹی سے ایم اے، ایل ایل بی اور بی ٹی کیا اور پھر 1965میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ فرمان فتح پوری کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو سے وابستہ رہے اردو لغت بورڈ کے مدیراعلی اورسیکریٹری کے طور پر بھی خدمات سرانجام دیں۔ڈاکٹرفرمان فتح پوری 1996میں سندھ سول سروس بورڈکے رکن مقرر ہوئے۔ وہ فرمان ادبی جریدے نگارکے مدیربھی رہے جس کے بانی نیازفتح پوری تھے۔

ڈاکٹر فرمان فتح پوری 60 سے زائد کتابوں کے مصنف تھے جن میں سے چند قابل ذکر تصانیف میں اردورباعی،تدریس اردو،اردوکی مضمون داستان،تحقیق وتنقید،نیا اورپرانا ادب،قمرزمانی بیگم،زبان اوراردوزبان،اردو کی نعتیہ شاعری،اقبال سب کے لیے،اردو شعرا کے تذکرے اور تذکرہ نگاری،غالب شاعر امروز و فردا،ہندی اردو تنازع،نیازفتح پوری دیدہ شنیدہ،عورت اورفنون لطیفہ اور فرمانیات قابل ذکر ہیں۔ مزید برآں ڈاکٹر فرمان فتح پوری پر لکھے گئے مقالات اور مضامین میں ڈاکٹر فرمان فتح پوری بحیثیت نقاد،ڈاکٹر فرمان فتح پوری ۔

ایک جہت نما صاحب قلم،ڈاکٹر فرمان فتح پوری ،شخصیت اور فن، ڈاکٹر فرمان فتح پوری ۔حیات و خدمات جلد اول، ڈاکٹر فرمان فتح پوری ۔حیات و خدمات جلد دوم، ڈاکٹر فرمان فتح پوری ۔حیات و خدمات جلد سوم، تنقید نما اور ڈاکٹر فرمان فتح پوری۔ ایک ہمہ جہت نقاد وغیرہ شامل ہیں ۔ یہ مقالہ جات اور مضامین ان کی شخصیت کے نمایاں پہلوؤں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ان کی خدمات پر انھیں ستارہ امتیاز سمیت مختلف ایوارڈز اور اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری 3 اگست 2013 کو کراچی میں انتقال کر گئے۔ ان کی سالگرہ کے موقع پر علمی ادبی حلقوں کی جانب سے ان کی خدمات پر انہیں بھر پور انداز میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔