معاشی استحکام کے بعد پاکستان ترقی اور برآمدات پر مبنی نمو کی راہ پر گامزن

محمد اورنگزیب: بجٹ 2026-27 کاروبار دوست اور ترقی پسند وژن کے تحت ترتیب دیا گیا ہے

اسلام آباد۔13جون (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے مرحلے سے آگے بڑھ کر اب معاشی ترقی اور برآمدات پر مبنی نمو کے سفر کا آغاز کر چکی ہے، جبکہ بجٹ27-2026کو کاروبار دوست اور ترقی پسند وژن کے تحت ترتیب دیا گیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے، جبکہ صنعت اور برآمدات کے فروغ کے لیے کم لاگت فنانسنگ کی سہولتیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیرف اصلاحات کے دوسرے مرحلے پر حکومت پوری طرح کاربند ہے تاکہ پیداواری لاگت کم اور مسابقت میں اضافہ ہو۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ تنخواہ دار طبقے اور کم آمدنی والے طبقات کو ٹیکس ریلیف دیا گیا ہے، جبکہ تعمیرات اور ہاؤسنگ سیکٹر کی بحالی کے لیے ٹرانزیکشن ٹیکسز میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کے لیے مالیاتی سہولتوں میں اضافہ کیا گیا ہے اور زرعی قرضوں کا حجم 2 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ چھوٹے کسانوں کے لیے "زرخیزی سکیم” متعارف کرائی گئی ہے جس کے تحت زمین یا گھر گروی رکھے بغیر قرضوں کی سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ وزیراعظم یوتھ ایگریکلچر لون پروگرام کے تحت 262 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جن میں سے 125 ارب روپے زراعت کے لیے مخصوص ہیں۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ زرعی مشینری، کمبائن ہارویسٹرز اور دیگر ویلیو ایڈڈ آلات کی درآمد پر کسٹم اور ریگولیٹری ڈیوٹیز ختم کر دی گئی ہیں تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کو آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت (AI) کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے، انسانی مداخلت کم کی جا رہی ہے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے ریٹیلر سکیم سمیت مختلف اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ بجٹ 2026-27 میں دستیاب مالی گنجائش کو مکمل طور پر معاشی سرگرمیوں، سرمایہ کاری، برآمدات اور روزگار کے فروغ کے لیے استعمال کیا گیا ہے اور موصول ہونے والا ابتدائی ردعمل اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان اب معاشی ترقی کے نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

مزید خبریں