وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قبائلی امور مبارک زیب خان نے موجودہ مشکل معاشی حالات میں بہترین بجٹ تیار کرنے پر حکومت اور معاشی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت قبائلی اضلاع (سابقہ فاٹا) میں ترقیاتی عمل کو تیز کرنے اور عوام کو ان کا جائز حق دلانے کیلئے فنڈز میں مزید اضافہ کرے گی
معاشی ٹیم کو بہترین بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد، قبائلی اضلاع میں معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کیلئے فنڈز 100 ارب روپے تک بڑھایا جائے، مبارک زیب
اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قبائلی امور مبارک زیب خان نے موجودہ مشکل معاشی حالات میں بہترین بجٹ تیار کرنے پر حکومت اور معاشی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت قبائلی اضلاع (سابقہ فاٹا) میں ترقیاتی عمل کو تیز کرنے اور عوام کو ان کا جائز حق دلانے کیلئے فنڈز میں مزید اضافہ کرے گی۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے مبارک زیب نے حکومت پر زور دیا کہ انضمام کے وقت کئے گئے وعدوں کے مطابق قبائلی اضلاع کے ترقیاتی فنڈز کو موجودہ 27 ارب روپے سے بڑھا کر 100 ارب روپے کیا جائے تاکہ علاقے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو تیزی سے مکمل کر کے عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ این ایف سی ایوارڈ میں قبائلی اضلاع کا جائز حصہ دیا جائے کیونکہ یہ وہاں کے عوام کا قانونی، آئینی اور اخلاقی حق ہے جس سے علاقے میں خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔
معاون خصوصی نے ایم بی آئی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ ضلع باجوڑ اور ضلع مہمند سمیت جنوبی بلوچستان کے دور افتادہ علاقے غربت، بے روزگاری اور تعلیم و صحت کی کمی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وفاق ان پسماندہ علاقوں کو قومی دھارے میں لانے کے لئے خصوصی اقدامات کرے گا۔انہوں نے قبائلی عوام کی حب الوطنی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ غیور عوام ہیں جنہوں نے ملک و قوم کی خاطر دہشت گردی، نقل مکانی اور معاشی نقصان برداشت کرتے ہوئے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے معزز ایوان سے اپیل کی کہ قبائلی اضلاع کے بجٹ میں اضافہ کر کے ان کے زخموں پر مرہم رکھا جائے۔مبارک زیب خان نے امید ظاہر کی کہ اگر آج اس معزز ایوان نے قبائلی عوام کے حقوق کے حق میں جرأت مندانہ فیصلہ کیا تو تاریخ میں اسے ہمیشہ ایک بڑے اور سنہرے انصاف کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔









