معاملات کو بلاوجہ سنسنی خیز بنایاوحقائق کو مسخ کر کے پیش کیا گیا،رپورٹ ہاکی فیڈریشن کو جمع کرا دی ہے ،طاہر زمان

لاہور۔18فروری (اے پی پی):پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے دورہ آسٹریلیا سے متعلق اٹھنے والے سوالات اور تنازع پر وضاحت کے لیے بلائی گئی اہم پریس کانفرنس میں قومی ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ طاہر زمان نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملات کو بلاوجہ سنسنی خیز بنایا اور حقائق کو مسخ کر کے پیش کیا گیا۔اس موقع پر ان کے ہمراہ کوچ ذیشان اشرف اور منیجر …

لاہور۔18فروری (اے پی پی):پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے دورہ آسٹریلیا سے متعلق اٹھنے والے سوالات اور تنازع پر وضاحت کے لیے بلائی گئی اہم پریس کانفرنس میں قومی ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ طاہر زمان نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملات کو بلاوجہ سنسنی خیز بنایا اور حقائق کو مسخ کر کے پیش کیا گیا۔اس موقع پر ان کے ہمراہ کوچ ذیشان اشرف اور منیجر محمد عثمان بھی موجود تھے۔طاہر زمان نے بتایا کہ فیڈریشن نے انہیں دورہ آسٹریلیاء کے انتظامی امور پر بریفنگ کے لیے طلب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم جب آسٹریلیا پہنچی تو پہلے سے بک کیے گئے ہوٹل میں بروقت ادائیگی نہ ہونے کے باعث بکنگ کنفرم نہ ہو سکی۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ ہماری بکنگ فائنل نہیں ہوئی، جس کے بعد دیگر ہوٹلز میں بھی کوشش کی گئی مگر کامیابی نہ ملی۔

انہوں نے کہا اس صورتحال میں ٹیم انتظامیہ نے متبادل رہائش کا بندوبست کیا جو معیار کے لحاظ سے فائیو اسٹار ہوٹل کے برابر تھی۔انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بعض مناظر کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔اگر آپ سیون سٹار ہوٹل میں بیٹھ کر بھی ہڈیوں والی پلیٹ کی ویڈیو بنائیں گے تو وہ گندی ہی دکھائی دے گی۔ طاہر زمان نے واضح کیا کہ حقیقت اس سے مختلف تھی، سڈنی پہنچنے پر ٹیم کو تقریبا چھ گھنٹے انتظار کرنا پڑا، اس دوران مقامی پاکستانی کمیونٹی نے کھانے کا بہترین بندوبست کیا جس پر وہ شکر گزار ہیں۔ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ ان معاملات کو غیر ضروری طور پر بڑھایا گیا۔

انہوں نے فیڈریشن سے مطالبہ کیا کہ آسٹریلیا میں غیر جانبدار افراد سے رپورٹ حاصل کی جائے تاکہ اصل صورتحال سامنے آ سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ قومی ہاکی کے عظیم کھلاڑی شہباز سینئر کے حوالے سے نامناسب زبان استعمال کی گئی، جو ہرگز قابل قبول نہیں، کھلاڑیوں کے لیے واضح کوڈ آف کنڈکٹ ہونا اور اس پر سختی سے عملدرآمد ہونا چاہیے۔منیجر محمد عثمان نے انتظامی پہلوئوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ کئی ٹورز میں بطور اسسٹنٹ کوچ اور منیجر ذمہ داریاں نبھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ارجنٹائن کے دورے میں انتظامات فیڈریشن نے عالمی ادارے کے ساتھ مل کر کیے تھے جبکہ آسٹریلیا کے ٹور میں معاملات پاکستان سپورٹس بورڈ کے ساتھ طے ہونا تھے۔

انہوں نے بتایا کہ پی ایس بی کی جانب سے 29 جنوری کو چیک جاری ہوا جو 3 فروری کو ان کے اکائونٹ میں منتقل ہوا، جس کے باعث بعض ادائیگیوں میں تاخیر پیش آئی۔طاہر زمان نے کہا کہ قومی کھلاڑی محدود وسائل کے باوجود ملک و قوم کے لیے کھیل رہے ہیں اور ہوٹل میں قیام کے دوران بھی اپنی شرٹس خود دھوتے ہیں،اگر ملک کے لیے کھیلنا ہے تو کچھ قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹیم کے ممکنہ کھلاڑیوں کا 26 سے 30 افراد پر مشتمل پول موجود اور غیر ملکی کوچز بھی کھلاڑیوں سے متعلق رپورٹس دے چکے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اپنی مفصل رپورٹ فیڈریشن کو جمع کرا دی گئی ہے ،اب فیصلہ حکام نے کرنا ہے، اگر میرے مستعفی ہونے سے پاکستان ٹیم ورلڈ کپ کوالیفائی کر سکتی ہے تو میں ایک منٹ میں عہدہ چھوڑنے کو تیار ہوں۔ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے اپیل کی کہ چونکہ چند روز میں ٹیم نے ورلڈ کپ کوالیفائنگ رائونڈ کے لیے روانہ ہونا ہے، اس لیے معاملے کو باہمی افہام و تفہیم سے حل کیا جائے تاکہ قومی ٹیم پوری توجہ کے ساتھ اپنے ہدف پر مرکوز رہ سکے۔

 

مزید خبریں