محکمہ زراعت سیالکوٹ نے کماد اور مونگ وماش کی آبپاشی کیلئے سفارشات جاری کردیں

محکمہ زراعت سیالکوٹ نے کماد، مونگ اور ماش کی فصلوں کی بہتر پیداوار کے لیے آبپاشی سے متعلق سفارشات جاری کرتے ہوئے کاشتکاروں پر زور دیا ہے کہ وہ موسم اور فصل کی ضرورت کے مطابق آبپاشی یقینی بنائیں۔ترجمان محکمہ زراعت سیالکوٹ نے بتایا کہ کماد کی فصل کو مجموعی طور پر 16 مرتبہ آبپاشی کی ضرورت ہوتی ہے۔

سیالکوٹ۔29جولائی (اے پی پی):محکمہ زراعت سیالکوٹ نے کماد، مونگ اور ماش کی فصلوں کی بہتر پیداوار کے لیے آبپاشی سے متعلق سفارشات جاری کرتے ہوئے کاشتکاروں پر زور دیا ہے کہ وہ موسم اور فصل کی ضرورت کے مطابق آبپاشی یقینی بنائیں۔ترجمان محکمہ زراعت سیالکوٹ نے بتایا کہ کماد کی فصل کو مجموعی طور پر 16 مرتبہ آبپاشی کی ضرورت ہوتی ہے۔

اگر موسم اور فصل کی ضرورت کے مطابق بروقت پانی دیا جائے تو فی ایکڑ گنے کی بہتر پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگست کے دوران کماد کو ڈیڑھ سے دو ہفتے کے وقفے سے، ستمبر اور اکتوبر میں ہر ہفتے جبکہ نومبر سے فروری تک 6 سے 7 ہفتے کے وقفے سے آبپاشی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کھاد ڈالنے کے بعد فوری آبپاشی ضروری ہے تاکہ کھاد کے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ترجمان نے کہا کہ برسات کے موسم میں پانی کی مقدار کا خاص خیال رکھا جائے، کیونکہ زیادہ پانی کھیت میں کھڑا رہنے سے گنے کی فصل پر کیڑوں کے حملے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

انہوں نے مونگ اور ماش کے کاشتکاروں کو ہدایت کی کہ وہ بیماریوں اور نقصان دہ کیڑے مکوڑوں کی بروقت نگرانی اور تدارک کریں تاکہ فصل کو معاشی نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اچھی پیداوار کے لیے جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی بھی نہایت ضروری ہے۔ترجمان کے مطابق مونگ اور ماش کی فصل کو تین مرتبہ آبپاشی درکار ہوتی ہے۔ پہلا پانی اگاؤ کے 3 سے 4 ہفتے بعد، دوسرا پھول نکلنے کے مرحلے پر اور تیسرا پھلیاں بننے کے وقت دیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس دوران بارش ہو جائے تو فصل کی ضرورت کے مطابق آبپاشی کی جائے، جبکہ بارش کا زائد پانی کھیت میں جمع ہونے کی صورت میں اس کے فوری نکاس کا انتظام بھی یقینی بنایا جائے تاکہ فصل کو نقصان سے بچایا جا سکے۔

مزید خبریں