وزیراعظم شہباز شریف کی مختلف شعبوں میں ٹیکس کی استعداد کے تخمینے کیلئے جامع و سائنٹیفک طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مختلف شعبوں میں ٹیکس کی استعداد کے تخمینے کیلئے جامع و سائنٹیفک طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے برآمدی و مقامی شعبے کو جس قدر ممکن ہوا سہولت فراہم کرتی رہے گی ۔

اسلام آباد۔29جولائی (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مختلف شعبوں میں ٹیکس کی استعداد کے تخمینے کیلئے جامع و سائنٹیفک طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے برآمدی و مقامی شعبے کو جس قدر ممکن ہوا سہولت فراہم کرتی رہے گی ۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ایف بی آر اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس بدھ کو یہاں منعقد ہوا جس میں محصولات میں اضافے اور ادارہ جاتی اصلاحات پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ مختلف شعبوں میں ٹیکس کی استعداد کے تخمینے کیلئے ایک جامع و سائنٹیفک طریقہ کار وضع کرکے پیش کیا جائے۔

انہوں نے پاور سیکٹر کے ساتھ تعاون سے غیر رسمی معاشی سرگرمیوں اور ٹیکس چوری میں ملوث افراد و کارباروں کا تعین کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی بھی ہدایت کی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چینی کے پیداواری شعبے اور ایف بی آر کے اعداد و شمار میں ہم آہنگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے نصب شدہ ٹریکنگ نظام فعال اور بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے۔ اس ضمن میں چیئرمین ایف بی آر اور ان کی ٹیم کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ وزیراعظم نے ٹیکس نظام میں رہتے ہوئے تمام تر ضابطوں کی پابندی کرنے اور ٹیکس جمع کروانے والے افراد و کاروبار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹیکس کے حوالے سے برآمدی اور مقامی شعبے کو جس قدر ممکن ہوا سہولت فراہم کی اور آئندہ کیلئے بھی کرتی رہے گی۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ چیئرمین ایف بی آر اور سینئر افسران ہر ماہ کے پہلے ہفتے کراچی میں موجود ہوں تاکہ کاروباری برادری کے مسائل بروقت سنے اور حل کیے جا سکیں۔ انہوں نے ٹیکسٹائل، مشروبات، سٹیل، پولٹری، خوردنی تیل اور گھی اور ٹائرز کے شعبوں میں پیداوار کی ڈیجیٹل نگرانی کا نظام دسمبرتک فعال بنانے کی بھی ہدایت کی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایف بی آر میں تقرریاں اور تبادلے صرف میرٹ کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔ انہوں نے ایف بی آر میں افسران کی جانچ کے نظام کو لائق تحسین قرار دیا اور کہا کہ میرٹ اور شفافیت اولین ترجیح رہے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اچھی کارکردگی دکھانے والے افسران کی فہرست مرتب کی جائے تاکہ یوم آزادی پر انہیں ایوارڈز سے سراہا جا سکے۔

وزیراعظم نے کسٹمز بانڈڈ ویئر ہائوسز میں کسی بھی بے ضابطگی کی نشاندہی اور تدارک کیلئے فوری تھرڈ پارٹی آڈٹ اور ویلیڈیشن کرانے کا بھی حکم دیا ۔ وزیراعظم کو ایف بی آر کی جانب سے پیداواری شعبے کیلئے ٹریکنگ نظام کی تنصیب، ایف بی آر میں افرادی قوت کے حوالے سے نافذ کی گئی اصلاحات اور آپریشنل استعداد کار بڑھانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ چینی، سیمنٹ، تمباکو، ٹائلز اور کھاد کے شعبے میں ٹریکنگ سسٹم مکمل طور پر فعال جبکہ مزید 5 شعبوں میں نفاذ حتمی مراحل میں ہے جس کی ٹیکس استعداد 7 سو ارب روپے سے زیادہ ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 9 پیداواری شعبوں میں ٹریکنگ نظام وضع کرنے اور اس کے نفاذ کیلئے شعبوں کے ساتھ مل کر کام جاری ہے جس کی بدولت 560 ارب روپے کے ٹیکس کی استعداد کار سے فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پیداواری شعبے میں بالواسطہ ٹیکس اکٹھا کرنے کیلئے ٹریکنگ نظام کے نفاذ کو رواں برس کے اختتام تک یقینی بنایا جائے۔ افرادی قوت کے حوالے سے اصلاحات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ افسران کی بھرتی کے وقت ان کی ٹریننگ ملک کی مایہ ناز یونیورسٹی سے کرائی جا رہی ہے جس میں میرٹ اور اچھی کارکردگی کے اصولوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ حاضر افسران کی ٹریننگ بھی کروائی جا رہی ہے، ٹریننگ ماڈیولز بین الاقوامی معیار اور پاکستان کے ٹیکس نظام کی ضروریات سے ہم آہنگ ہیں ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پیئر ریویو اور جانچ کے نظام کے نفاذ کے بعد کسٹمز اور ان لینڈ ریونیو میں اہم پوسٹوں پر اچھی شہرت کے حامل افراد کی تعیناتی یقینی بنائی جارہی ہے۔

ایف بی آر میں ایسے افسران و اہلکار جن کی کارکردگی بہتر ہے، ان کی پذیرائی اور خراب کارکردگی والے افسران و اہلکاروں کی سزا کا نظام بھی متعارف کروایا گیا ہے، شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے 957 تھرڈ پارٹی آڈیٹرز کی تعیناتی ہو چکی ہے جبکہ کسٹمز کے فیس-لیس نظام کے تحت 280 گڈز ایویلوایٹرز کی بھرتی کا عمل جاری ہے جس میں میرٹ و شفافیت کو اولین ترجیح دی جارہی ہے۔ فیس لیس نظام کے ذریعے نہ صرف سامان کی ترسیل و آمد کیلئے درکار وقت میں کمی بلکہ ریکوری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ٹیکس مقدمات میں غیر ضروری قانونی چارہ جوئی کم کرنے کے لیے کیس سکرونٹی کمیٹی قائم کی جا رہی ہے جو ٹیکس سے متعلق مقدمات کے اندراج کا فیصلہ میرٹ پر کرے گی۔

اسی طرح متبادل تنازعاتی حل (اے ڈی سی آرز) فورم کے تحت جون 2026ء تک 377 درخواستوں میں سے 152 درخواستیں90 روز کے اندر نمٹائی گئیں جس کے نتیجے میں 54 ارب روپے کی ٹیکس وصولی ممکن ہوئی۔ اجلاس میں وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

مزید خبریں