اسلام آباد ۔ 5 اگست (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بدھ کو بنکاک میں ایک اہم بین ا لاقوامی وزارتی گول میز اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس میں دنیا کے مختلف ممالک سے شریک وزراءنے کووڈ 19 کے تناظر میں خواتین کے حوالے سے لئے جانے والے خصوصی اقدامات کو پینل ممبران کے ساتھ شیئر کیا۔ گول …
معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی بنکاک میں اہم بین ا لاقوامی وزارتی گول میز اجلاس میں شرکت

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 5 اگست (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بدھ کو بنکاک میں ایک اہم بین ا لاقوامی وزارتی گول میز اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس میں دنیا کے مختلف ممالک سے شریک وزراءنے کووڈ 19 کے تناظر میں خواتین کے حوالے سے لئے جانے والے خصوصی اقدامات کو پینل ممبران کے ساتھ شیئر کیا۔ گول میز اجلاس کی میزبانی کے فرائض ایگزیکٹو ڈائریکٹر یونائیٹد نیشن وومن، فومزل مالبونگ کئیکا نے انجام دئیے۔ اجلاس کا بنیادی مقصد بین العلاقائی معلومات کا فروغ اور ان بہترین تجربا ت کو شیئر کرنا تھا جو کوڈ19-کے دوران SDG5 کی تکمیل کے سلسلے میں پیش آئے اور خاص طور پر خواتین لیڈرشپ اور صنفی شمولیت سے متعلق پیکیجز کا جائزہ لینا تھا۔ ممتاز پینل ممبران نے مشترکہ تعاون کے بین العلاقائی مواقع کی بھی نشاندہی کی۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے پینل میں ”رسپونس اور ریکوری“ پر بات کی۔ انہوں نے کورونا پر جلد قابو پانے کے لئے پاکستان کی طرف سے کی گئی بہترین کوششوں اور کووڈ 19 کے باعث معاشی طور پر متاثر ہونے والے غریب خاندانوں کی امداد سے متعلق تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے بتایا کہ احساس ایمرجنسی کیش امداد سے مستفید ہونے والوں میں 61% خواتین شامل ہیں اور احساس معاشی رسپونز حکمت عملی کے ذریعے خواتین کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ احساس کے خواتین کی فلاح سے متعلق ایجنڈے کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر نشتر نے مزید بتایا کہ احساس کی بنیاد ا س سوچ پر رکھی گئی ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یہ پروگرام اس ملک کی خواتین کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کرے جو کہ اس کی آبادی کا 49% حصہ ہیں۔ احساس کی خواہش ہے کہ خواتین کے لیے اہم ضروری اقدامات اٹھائے جائیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ احساس کے تمام پروگراموں سے مستفید ہونے والے صارفین کا 50% حصہ خواتین پر مشتمل ہو۔ لہذا احساس نے خواتین کیلئے کئی سماجی تحفظ اور تخفیف غربت کے اقدامات کو شامل کیا ہے جیسے بلاسود قرضے (50% خواتین)، انکم پروگرام (60% خواتین)، انڈر گریجویٹ اسکالرشپس (50% خواتین)، کفالت(7 ملین خواتین)۔ انصاف کارڈ کو بھی خاص طور سے خواتین کی صحت کیلئے رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ خواتین گھریلو ملازمین اور دیہی خواتین کیلئے احساس لیبر ایکسپرٹ گروپ کے ذریعہ لیبر فورس کی پالیسیاں تیار کی جاری ہیں۔ اسی طرح لڑکیوں کیلئے سیکنڈ چانس پروگرام، بچوں کی پرائمری تعلیم کیلئے مشروط مالی معاونت کا پروگرام، ان میں 50 فیصد خواتین کی فلاح و بہبود پر اثر پڑے گااور بنیادی حقوق اور مواقع میسر آئیں گے۔ مختصراً گول میز کانفرنس میں وبائی مرض کے صنفی اثرات پر عملی خیالات، ردعمل اور تجربات پر بات کی گئی۔ پینل نے اجتماعی طور پر اس بات کا اعادہ کیا کووڈ19 صنفی مساوات کے حصول کیلئے کلیدی چیلنجوں سے نمٹنے اور کویڈ کے بعد حالات کو بہتر بنانے کی پیشکش کرتا ہے۔ احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے حوالے سے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے احساس کی روح رواں ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بتایا، کہ پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے جس کی 24 ملین آبادی ایسے افراد پر مشتمل ہے جو دیہاڑی دار ہیں یا غیر رسمی لیبر سیکٹر میں کام کرتے ہیں۔ ان کے لئے کورونا لاک ڈاو¿ن کے باعث زندگی کی گاڑی کا پہیہ چلانا بہت مشکل ہو گیا تھا۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے حکومت پاکستان نے احساس پروگرام ترتیب دیا جو کہ ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا سماجی تحفظ کا پروگرام ہے۔ یہ پروگرام لاک ڈاو¿ن کے نفاذ کے دس روز کے اندر شروع کیا گیا۔ 16.9 ملین خاندانوں کی مالی امداد کے لئے 1.23 ڈالرز کی رقم مختص کی گئی۔ اگر پاکستان میں آبادی کے عمومی سائز کو دیکھا جائے تو مجموعی طور پر 109 ملین افراد اس پروگرام سے مستفید ہوں گے۔ پینل کے ماہرین میں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت، وزیر برائے سماجی امور اور لبنانی جمہویہ کے وزیر سیاحت، وفاقی وزیر جمہوریہ نائجریا کے خواتین امور اور سماجی ترقی کے وزیر اور میانمار کی یونین جمہوریہ کی وزارت منصوبہ بندی، خزانہ اورصنعت وزارت کے پنشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل شامل تھے۔








