اسلام آباد۔4دسمبر (اے پی پی):وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے آٹو انڈسٹری کے وفد کے ساتھ اہم اجلاس کی صدارت کی جس میں سیکٹر کو درپیش اہم مسائل کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سیکریٹری صنعت سیف انجم اور سی ای او انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ حماد منصور نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں آٹو سیکٹر کو درپیش چیلنجز، استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد اور مقامی …
معاون خصوصی ہارون اختر خان کی زیرصدارت آٹو انڈسٹری کے وفد کے ساتھ اجلاس، آٹو سیکٹر کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا گیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔4دسمبر (اے پی پی):وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے آٹو انڈسٹری کے وفد کے ساتھ اہم اجلاس کی صدارت کی جس میں سیکٹر کو درپیش اہم مسائل کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سیکریٹری صنعت سیف انجم اور سی ای او انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ حماد منصور نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں آٹو سیکٹر کو درپیش چیلنجز، استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد اور مقامی مینوفیکچرنگ سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔پاکستان آٹو مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکس اصلاحات اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر موثر کنٹرول سے مقامی پیداوار کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی امپورٹ سے متعلق لبرل پالیسیز مقامی آٹو انڈسٹری کی حاصل کردہ کامیابیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ہارون اختر خان نے کہا کہ آٹو انڈسٹری پاکستان کے لارج سکیل مینوفیکچرنگ سیکٹر میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ حکومت کو استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے متعلق انڈسٹری کے خدشات کا مکمل ادراک ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایات پر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے متعلق نئے قوانین اور ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرائے جائیں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ صرف وہی استعمال شدہ گاڑیاں پاکستان میں داخل ہو سکیں گی جو حفاظتی اور ماحولیاتی معیار پر پوری اتریں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اوپن کمپیٹیشن سے آٹو انڈسٹری میں ایفیشنسی بڑھے گی اور کم لاگت مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ ملے گا۔سیکریٹری صنعت سیف انجم نے اجلاس کو بتایا کہ کمرشل امپورٹ کے لیے تین سالہ بیرون ملک رہائش اور مالک کے نام ایک سالہ رجسٹریشن بدستور لازمی ہو گی۔انہوں نے مزید کہا کہ درآمد شدہ گاڑیوں کے حفاظتی اور معیاری تقاضے پری شپمنٹ انسپیکشن کے ذریعے چیک کیے جائیں گے۔ہارون اختر خان نے کہا کہ نئے ریگولیشن سے آٹو مارکیٹ میں شفافیت اور میرٹ پر مبنی مقابلہ یقینی بنایا جا سکے گا۔








