اسلام آباد ۔ 4 مارچ (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ معیشت کی حالت مستحکم ہے اور برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافہ شرح نمو کی بڑھوتری میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے گزشتہ روز یہاں ٹی وی اینکرز کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ دسمبر 2019ء میں بڑے …
مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی ٹی وی اینکرز کے وفد سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 4 مارچ (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ معیشت کی حالت مستحکم ہے اور برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافہ شرح نمو کی بڑھوتری میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے گزشتہ روز یہاں ٹی وی اینکرز کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ دسمبر 2019ء میں بڑے صنعتی اداروں (ایل ایس ایم) کے شعبہ کی شرح ترقی میں 16 فیصد اضافہ ہوا جس سے معاشی شرح نمو میں بہتری کی عکاسی ہوتی ہے۔ اینکرز سے ملاقات کا مقصد مشیر خزانہ کی طرف سے معاشی پالیسی اور اصلاحات کے حوالہ سے میڈیا اور عوام کو آگاہی فراہم کرنا ہے۔ اس موقع پر قومی اسمبلی کی رکن کنول شوذب اور سپیشل سیکرٹری فنانس عمر حمید خان بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے آئی ایم ایف کے دوسرے جائزہ کے حوالہ سے بتایا کہ آئی ایم ایف نے تسلیم کیا ہے کہ دسمبر تک کے اہداف حاصل کر لئے گئے ہیں اور ڈھانچہ جاتی اہداف بھی کامیابی سے مکمل ہوئے ہیں، آئی ایم ایف وفد اور پاکستانی حکام کے جائزہ اجلاس سے اپریل 2020ء میں 450 ملین ڈالر کی قسط کے اجراء کی راہ ہموار ہو گی۔ مشیر خزانہ نے حکومت کی جانب سے رواں مالی سال 2020ء کی پہلی ششماہی میں جی ڈی پی کے 0.6 فیصد کے مساوی یعنی 286 ارب روپے کے پرائمری سرپلس پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ 10 سال میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں 16.5 فیصد اضافہ ہوا ہے اور کفایت شعاری کی پالیسی سے یہ ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے 6 ماہ کے دوران نان ٹیکس آمدن میں 170 فیصد اضافہ سے 876 ارب روپے وصولیاں ہوئی ہیں جبکہ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں 323 ارب روپے اکٹھے ہوئے تھے جس سے قرضوں کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے پہلے دو سال کے دوران 5 کھرب روپے کے اندرونی اور بیرونی قرضے ادا کئے گئے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے افراط زر کے بارے میں کہا کہ حکومت عوام پر بوجھ کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سات ہفتوں میں افراط زر میں کمی اور سی پی آئی فروری 2020ء میں 12.4 فیصد تک کم ہوا ہے جبکہ جنوری 2020ء میں سی پی آئی کی یہ شرح 14.6 فیصد تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے درآمدات میں اضافہ کی اجازت اور یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے سپلائی سے ایسا ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سماجی تحفظ کے پروگراموں میں وزیراعظم کے احساس پروگرام کے تحت بجٹ میں دوگنا اضافہ کیا ہے اور رواں مالی سال 2020ء میں احساس پروگرام کیلئے 192 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اس کے علاوہ حکومت توانائی کے شعبہ سمیت دیگر مسائل پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔







