معیشت کے بڑے شعبوں میں اصلاح اور طلب پر قابو پانے کی حکومتی پالیسیوں کے مثبت اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں ‘ترجمان فنانس ڈویژن

اسلام آباد ۔ 21 اکتوبر (اے پی پی) ترجمان فنانس ڈویژن نے کہا ہے کہ معیشت کے بڑے شعبوں میں اصلاح اور طلب پر قابو پانے کی حکومتی پالیسیوں کے مثبت اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں جس کا نتیجہ نہ صرف مالی سال2019ء میں3.3 فیصد کی مناسب معاشی نمو کی صورت میں نکلا ہے بلکہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے مثبت اثرات افراط زر پر قابو پانے، معاشی …

اسلام آباد ۔ 21 اکتوبر (اے پی پی) ترجمان فنانس ڈویژن نے کہا ہے کہ معیشت کے بڑے شعبوں میں اصلاح اور طلب پر قابو پانے کی حکومتی پالیسیوں کے مثبت اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں جس کا نتیجہ نہ صرف مالی سال2019ء میں3.3 فیصد کی مناسب معاشی نمو کی صورت میں نکلا ہے بلکہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے مثبت اثرات افراط زر پر قابو پانے، معاشی ترقی کی رفتار کو تیز تر کرنے، سماجی تحفظ کے دائرہ کار کو مضبوط بنانے، ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنے اور مالیاتی و تجارتی خسارے میں واضح کمی لانے میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ پیر کے روز جاری کردہ ایک اعلامیے میں فناس ڈویژن کے ترجمان نے کہا کہ حکومت نے معیشت کی بحالی کے لیے اب تک جتنی کوششیں کی ہیں انہیں اس مشکل معاشی صورت حال کے تناظر میں دیکھنا چاہیے جو موجودہ حکومت کو ورثے میں ملی اور جسے بہتر بنانے اور استحکام کے راستے پر گامزن کرنے کے لیے حکومت نے اپنی معاشی پالیسیاں ترتیب دیں جن کے کامیاب نفاذ سے نہ صرف معاشی ابتری کو روک دیا گیا ہے بلکہ معیشت کے کئی شعبوں میں ترقی کا پہیہ چل پڑا ہے جس سے آنے والے دنوں میں کاروبار اور عام آدمی کی زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ فناس ڈویژن کے ترجمان نے مزید کہا کہ میڈیا کے بعض حصوں میں شائع ہونے والی خبریں جن میں عام آدمی کی زندگی مشکل ہونے کے دعوے کے گئے ہیں ، اقتصادی صورت حال کی صحیح عکاسی نہیں کرتیں کیونکہ ایسی خبروں اور دعووں کی تائید میں معاشی اشاریوں بالخصوص بڑھتے ہوئے افراط زر اور دیگر عوامل کو ان کے سیاق و سباق کو واضح کئے بنا پیش کیا گیا ہے جبکہ حقائق اس کے بر عکس ہیں۔ وزارت خزانہ نے واضح کیا ہے کہ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو اس وقت ملکی معیشت کو مالی خسارے ، بیرونی شعبے اور حقیقی معاشی سرگرمیوں جن میں زراعت،صنعت اور خدمات کے شعبے شامل ہیں، سمیت کئی محاذوں پر گوناگوں مسائل اور چیلنجز درپیش تھے۔ معیشت کے بڑے شعبوں میں عدم توازن کو طویل عرصے سے ٹھیک نہ کرنے کی روش اور ایک عرصے سے لٹکی ہوئی سٹرکچرل اصلاحات جیسے مسائل پر قابو پانے کے لیے حکومت کو فوری پالیسی ایکشن لینا پڑا اور حکومت نے جامع معاشی اور اصلاحاتی پالیسیوں کا اجراء کیا جن کے مثبت نتائج ملنا شروع ہو گئے ہیں اورمالی سال2019ء میں3.3 فیصد کی معاشی نمو کا حصول اس کی واضح مثال ہے۔ وزارت خزانہ نے مزید کہا ہے کہ بعض میڈیا رپورٹس میں بڑھتے ہوئے افراط زر کو موضوع بنایا گیا ہے تاہم اس حوالے سے محض اشاریے بتا دیے گئے ہیں جبکہ بڑھتے ہوئے افراط زر کے صحیح اسباب کا بالکل احاطہ نہیں کیا گیا حالانکہ حقیقت میں افراط زر میں اضافے کی اہم وجوہات میں مالی و تجارتی خساروں کا بوجھ تھا جس کی وجہ سے حکومت کو قیمتوں کو بلند سطح پر ایڈجسٹ کرنا پڑا اور درآمد شدہ اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی نافذ کرنا پڑی۔اس کے ساتھ ساتھ بعض کھانے پینے کی اشیاء کی رسد میں مسائل اور سگریٹوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات اورکرنسی کی قدر میں کمی بھی افراط زر میں اضافے کا سبب بنی۔ علاوہ ازیں 2018 میں پالیسیوں میں تناسب اور توازن لانے میں کوتاہی بھی افراط زر میں اضافہ کا سبب بنی جس کی بنا پر موجودہ حکومت کو گیس اور بجلی کی قیمتوں میں ضروری اضافے، مارکیٹ کی بنیاد پر شرح مبادلہ کے تعین اور معیشت کے بڑے شعبوں میں عدم توازن پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں اضافے جیسے مشکل فیصلے کرنا پڑے۔