مقبوضہ کشمیرمیں ہزاروںگرفتار نوجوانوں کے لواحقین کو اپنے عزیزوں سے ملنے میں شدید مشکلات کا سامنا

سرینگر ۔ 13 اکتوبر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر سرینگر سینٹرل جیل ہزاروں نوجوانوں سے بھرا پڑا ہے جن کو5اگست کوبھارت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعدگرفتارکیاگیا تھا۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق گرفتار نوجوانوں کے اہلخانہ کو سرینگر کی شہید پارک تک پہنچنے میں جو ان کے لیے ایک انتظار گاہ بن چکی ہے، بے شمار فوجی چوکیوں اور ناکوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اہلخانہ …

سرینگر ۔ 13 اکتوبر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر سرینگر سینٹرل جیل ہزاروں نوجوانوں سے بھرا پڑا ہے جن کو5اگست کوبھارت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعدگرفتارکیاگیا تھا۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق گرفتار نوجوانوں کے اہلخانہ کو سرینگر کی شہید پارک تک پہنچنے میں جو ان کے لیے ایک انتظار گاہ بن چکی ہے، بے شمار فوجی چوکیوں اور ناکوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اہلخانہ اپنے عزیزوں سے ملنے کے لیے اپنے نمبر کا انتطار اسی پارک میں کرتے ہیں۔ شوکت احمد اور اس کے اہلخانہ اپنے گائوں دمہال سے 68کلومیٹر کی مسافت طے کرکے اپنے بھائی سے جو ایک طالب علم ہے اور اس کو 21اگست کو گرفتارکیاگیا ہے ، ملنے کی امید میں سرینگر پہنچے۔شوکت احمد کے بھائی عامر احمد پر دوسروں کو احتجاج کے لیے اکسانے کا الزام ہے لیکن شوکت احمد کا کہنا ہے کہ میرا بھائی بے قصور ہے اور وہ صرف ایک طالب علم ہے۔ ایک پولیس اہلکارنے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا کہ چھاپوں اور گرفتاریوں کے دوران نوجوانوں کو خاص طورپر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ گرفتار افراد میں سے کچھ سرینگر کی سینٹرل جیل میں ہیں جبکہ دیگر کو بھارت کی جیلوں میں منتقل کیاگیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہزاروں افرادکوگرفتارکرنے کا مقصد احتجاجی مظاہروں کو روکنا ہے۔ کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار افراد کو دوسال تک بغیر کسی مقدمے کے نظربند رکھا جاسکتا ہے۔ 22سالہ تجمل الاسلام کو 21اگست کو اپنے گھر سے گرفتارکیاگیا ہے۔ ان کے والد، والدہ اور بھارئی اسے ملنے کے لیے شہید پارک میں انتظار کررہے ہیں ۔ ان کی والدہ سارہ بانو پارک کے گیٹ پر منتظر ہے ۔ انہوں نے کہاکہ میں اس لیے گیٹ پر منتظر ہوں کیونکہ ہمیں بلانے پرمیں گھٹنوں میں تکلیف کے باعث تیزنہیں چل سکتی اورمیں پارک میں دور بیٹھ کر ایک منٹ بھی ضائع نہیں کرنا چاہتی۔