مقبوضہ کشمیر میں فوجی محاصرے کا 100واں دن، معمولات زندگی مسلسل مفلوج

سرینگر ۔ 12 نومبر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میںبھارت کی طرف سے جاری فوجی محاصرے اور مواصلاتی ذرائع کی معطلی کی وجہ سے وادی کشمیر اور جموںاور لداخ کے مسلم اکثریتی علاقوں میں منگل کو مسلسل 100ویں روز بھی معمولات زندگی مفلوج رہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق بھارتی فورسز کی بھاری تعداد میں موجودگی کے علاوہ علاقے میں دفعہ 144کے تحت سخت پابندیاں عائد ہیں۔ وادی کشمیر اورجموں کے …

سرینگر ۔ 12 نومبر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میںبھارت کی طرف سے جاری فوجی محاصرے اور مواصلاتی ذرائع کی معطلی کی وجہ سے وادی کشمیر اور جموںاور لداخ کے مسلم اکثریتی علاقوں میں منگل کو مسلسل 100ویں روز بھی معمولات زندگی مفلوج رہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق بھارتی فورسز کی بھاری تعداد میں موجودگی کے علاوہ علاقے میں دفعہ 144کے تحت سخت پابندیاں عائد ہیں۔ وادی کشمیر اورجموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں انٹرنیٹ ،ایس ایم ایس اورپری پیڈ موبائل فون سروسزمکمل طورپر بند ہیں۔ بھارتی قبضے اور اس کے 5اگست کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف وادی کشمیر کے لوگوں نے بطور احتجاج اپنی دکانیں اور کاروباری مراکز مسلسل بند رکھی ہوئی ہیں اور سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں میں عملے اور طلباء کی حاضری نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں سے غائب ہے۔لوگوں کی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دکانیں صرف صبح اور شام کے وقت ایک دوگھنٹوں کے لیے کھلتی ہیں۔ ادھر بھارتی حکومت کے 5اگست کے اقدامات کے خلاف دائر درخواستوںکے جواب میں بھارتی حکومت نے پیرکوبھارتی سپریم کورٹ میں جمع کئے گئے اپنے حلف نامے میں دفعہ 370کے خاتمے کا جواز پیش کیا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ جس نے بابری مسجد کیس میں متعصبانہ فیصلہ سناکرخود کو مزید متنازعہ بنادیا ہے، دفعہ 370 اور35Aکی منسوخی کے خلاف دائر متعدد درخواستوں کوسماعت 14نومبر کو کررہی ہے۔