اسلام آباد ۔ 14 مئی (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور بھارت میں مسلمانوں پر مظالم کو بے نقاب کرنے کے حوالے سے پاکستان کی سفارتی پالیسی کے ثمرات سامنے آنے لگے ہیں' اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری بھارت کے اقدامات پر گہری تشویش ظاہر کر رہی ہے' مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کی جائیں' …
مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور بھارت میں مسلمانوں پر مظالم کو بے نقاب کرنے کے حوالے سے پاکستان کی سفارتی پالیسی کے ثمرات سامنے آنے لگے ہیں’ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری بھارت کے اقدامات پر گہری تشویش ظاہر کر رہی ہے’ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا ایوان بالا میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 14 مئی (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور بھارت میں مسلمانوں پر مظالم کو بے نقاب کرنے کے حوالے سے پاکستان کی سفارتی پالیسی کے ثمرات سامنے آنے لگے ہیں’ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری بھارت کے اقدامات پر گہری تشویش ظاہر کر رہی ہے’ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کی جائیں’ عالمی مبصرین کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت دی جائے’ غیر انسانی لاک ڈائون فوری ختم کیا جائے’ خوراک اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے’ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے’ کالے قوانین کو ختم کیا جائے’ 9 لاکھ بھارتی فوج کو کشمیر سے نکالا جائے’ اس مسئلے کو ہر فورم پر اجاگر کرتے رہیں گے’ کشمیر کے معاملے پر پوری قوم کا موقف یکساں ہے۔ جمعرات کو ایوان بالا میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کورونا وبا کے بعد مقبوضہ کشمیر میں صورتحال مزید پیچیدہ رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اس سے قبل بھی کبھی اچھی نہیں رہی اور اس میں مسلسل اتار چڑھائو آتا رہا۔ آج کل کے حالات پہلے سے زیادہ نازک ہو چکے ہیں۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان مختلف تنازعات ہیں لیکن ان میں سب سے اہم تنازعہ کشمیر ہے۔ اس معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں موجود ہیں اور یہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر بھی موجود ہے۔ بھارت ان قراردادوں پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں۔ بھارت نے پانچ اگست کے بعد کچھ اقدامات کئے ہیں جس کے باعث کشمیر میں خوف اور بے یقینی میں اضافہ ہوا ہے۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ لاک ڈائون سے کتنی مشکلات ہوتی ہیں لیکن کشمیریوں کی صورتحال کا جائزہ لیں تو وہ چند ماہ سے لاک ڈائون میں زندگی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں کسی قسم کی کوئی آزادی حاصل نہیں ۔انہیں ان کے تمام انسانی بنیادی حقوق سے محروم کردیا گیا ہے۔ بھارتی اقدامات سے ان کا سیکولر اور جمہوری چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے اور یہ ہندوتوا سوچ کے تحت بگڑ گیا ہے۔ جو کچھ آج نظر آرہا ہے ماضی میں ہندوستان میں ایسا کبھی کچھ نہیں ہوا۔ عوام بھارتی سرکار کی پالیسی سے ناخوش ہیں اور اس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ بھارت میں اقلیتیوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے عالمی ادارے بھارت پر تنقید کر رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں کمیونیکیشن بلیک آئوٹ کے باوجود اطلاعات سامنے آرہی ہیں جو وہاں کی خراب صورتحال کی عکاسی کرتی ہیں۔ رات کو گھروں پر چھاپے مارے جاتے ہیں۔ بلاقصور نوجوانوں کو اغواء کیا جاتا ہے’ ان کو عبرت کا نشان بنانے کے لئے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ پورا گائوں اور علاقہ سہم جائے۔ پانچ اگست کے غیر قانونی اقدامات کے بعد ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔ بھارتی انسانی حقوق کی تنظیمیں کہتی ہیں کہ 13ہزار نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں نہ صرف سیاستدان بلکہ انسانی حقوق کے کارکن بھی گرفتار ہیں۔ بھارتی حکومت خوف کا شکار ہے’ وہ آر ایس ایس اور ہندو توا کا ایجنڈا نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کے ثقافتی کلچر اور نشانیوں کو یکے بعد دیگرے مٹانے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اردو زبان کو ہندی سے تبدیل کیا جارہا ہے۔ تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جارہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ڈومیسائل قانون میں تبدیلی کی کوشش کی جارہی ہے۔ جس سے غیر کشمیریوں کو ملکیتی حقوق مل جائیں گے۔ اسی طرح غیر قانونی طریقے سے 35A بھی نافذ کیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں ادویات اور اشیاء ضروریہ کی قلت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں کشمیری کورونا وبا کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ کورونا وائرس کے کیسز اور اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈاکٹروں اور صحت کے عملہ کو فرنٹ لائن پر موجود ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہے۔ سکول بند ہیں’ طالب علموں کو کسی بھی طریقے سے تعلیم نہیں دی جارہی۔ انٹرنیٹ کی پابندی کے باعث اطلاعات کی رسائی سے محروم ہیں۔ مسلمانوں اور اسلام کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ بھارت میں جو کورونا وائرس پھیلا ہے اس کا ذمہ دار مسلمان ہے اور کہا جارہا ہے کہ بھارت کو کورونا جہاد سے محفوظ کرنا ہے۔ بھارت اسلاموفوبیا کا شکار ہے۔ اسلامی ممالک کے وزراء خارجہ کو خطوط لکھ کر ان کی توجہ اس معاملے کی جانب دلائی ہے۔ او آئی سی کے آزاد کمیشن نے بھی بھارت کے اس رویے کی مذمت کی ہے۔ بھارت میں مسلمانوں سے ہسپتالوں اور کاروباری مقامات پر امتیازی سلوک بڑھتا جارہا ہے۔ ان کی زندگی اور روزگار خطرے میں ہے۔ صحافیوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ وہاں کی صورتحال پر آواز اٹھانے والے صحافی کو ظلم کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کو دھمکیاں دی جاتی ہیں اور مقدمات بنائے جاتے ہیں۔ وہ ذہنی کوفت کا شکار ہیں۔ وہاں مختلف آزادیوں کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے لیکن وہاں کی صحافتی تنظیمیں اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہی ہیں اور وہ کہتی ہیں کہ وہاں اظہار رائے کی کوئی آزادی نہیں ہے اور نہ ہی میڈیا آزاد ہے۔ وہاں موجودہ صورتحال میں سختیوں میں کمی کی امید تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یکم جنوری سے اب تک بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن کی خلاف ورزیوں کے باعث 6 شہری شہید ہوئے ہیں۔ وہ دنیا کی توجہ کشمیر اور بھارت کی اندرونی صورتحال سے ہٹانا چاہتے ہیں۔پاکستان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے مبصرین سرحد کے دونوں جانب موجود ہیں۔ انہیں کنٹرول لائن کے دورے کی دعوت دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے برطانوی وفد کو مقبوضہ کشمیر نہیں جانے دیا جبکہ ہم نے اسی وفد کو آزاد کشمیر کا دورہ کرایا۔ بھارت کے پاس بنانے کے لئے کچھ نہیں اور ہمارے پاس چھپانے کے لئے کچھ نہیں۔ پاکستان کی سفارتی پالیسی کے ثمرات سامنے آنے لگے ہیں۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری بھارت کے اقدامات پر گہری تشویش ظاہر کر رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کی جائیں۔ عالمی مبصرین کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت دی جائے۔ غیر انسانی لاک ڈائون فوری ختم کیا جائے۔ خوراک اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے’ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے’ کالے قوانین کو ختم کیا جائے’ 9 لاکھ بھارتی فوج کو کشمیر سے نکالا جائے’ اس مسئلے کو ہر فورم پر اجاگر کرتے رہیں گے۔بنیادی انسانی حقوق کے معاملے کو اٹھاتے رہیں گے۔







