مقررہ قانونی تقاضے پورے نہ ہونے کی صورت میں حقِ شفعہ کا دعویٰ برقرار نہیں رہ سکتا، سپریم کورٹ

مقررہ قانونی تقاضے پورے نہ ہونے کی صورت میں حقِ شفعہ کا دعویٰ برقرار نہیں رہ سکتا، سپریم کورٹ

اسلام آباد۔21ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ حقِ شفعہ کے دعوےدار کو فروخت کا علم ہونے پر بلا غیر ضروری تاخیر طلبِ مواثبت کرنا اور بعد ازاں طلبِ اشہاد کی قانونی تقاضوں کے مطابق تعمیل ثابت کرنا ضروری ہے، مقررہ قانونی تقاضے پورے نہ ہونے کی صورت میں حقِ شفعہ کا دعویٰ برقرار نہیں رہ سکتا۔جسٹس شاہد وحید، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بنچ نے محمد نیاز بنام راجہ خوشدل عباسی کیس میں 17 ستمبر 2026 کو سماعت کے بعد فیصلہ جاری کیا۔سپریم کورٹ نے محمد نیاز کی اپیل منظور کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد بنچ کے فیصلے سمیت ماتحت عدالتوں کے فیصلے اور ڈگریاں کالعدم قرار دے دیں اور راجہ خوشدل عباسی کی جانب سے دائر حقِ شفعہ کا دعویٰ خارج کر دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ معاملہ حقِ شفعہ سے متعلق ہونے کے باعث خیبر پختونخوا پری ایمپشن ایکٹ 1987 کے تحت آتا ہے۔ قانون کے تحت حقِ شفعہ کا دعویٰ کرنے والے شخص کے لئے سب سے پہلے دفعہ 13 کے مطابق طلبِ مواثبت کی ادائیگی ثابت کرنا ضروری ہے۔فیصلے کے مطابق متعلقہ زمین کی فروخت 20 اکتوبر 2009 کو انتقال نمبر 7389 کے ذریعے ہوئی جبکہ مدعی نے پہلی طلب 16 جنوری 2010 کو کرنے کا دعویٰ کیا۔ یوں اس کے اپنے مؤقف کے مطابق فروخت کا انتقال منظور ہونے کے آٹھ ہفتے سے زائد عرصے بعد طلبِ مواثبت کی گئی۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مدعی نے اپنی درخواست میں یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ متعلقہ حکام نے قانون کے تحت مطلوبہ عوامی اطلاع جاری نہیں کی تھی، نہ ہی اس حوالے سے کوئی ثبوت پیش کیا گیا۔ ایسی صورت میں قانون کے تحت مقررہ مدت گزرنے کے بعد مدعی کو فروخت کا علم ہونے کا قانونی مفروضہ لاگو ہوتا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ محض بعد میں علم ہونے کی تاریخ بیان کرنے سے طلبِ مواثبت کے لئے مقررہ قانونی مدت آگے نہیں بڑھ سکتی۔

طلبِ مواثبت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ فروخت کا علم ہونے پر حقِ شفعہ رکھنے والا شخص بلا غیر ضروری تاخیر اپنے حق کے استعمال کا اظہار کرے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ موجودہ کیس میں 16 جنوری 2010 کو کیا گیا اعلان، فروخت کے انتقال کی منظوری کے آٹھ ہفتے سے زائد عرصے بعد ہونے کی وجہ سے، حالات کے پیش نظر بروقت حقِ شفعہ کے اظہار یا قانون کے تحت مطلوبہ طلبِ مواثبت کے طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے طلبِ اشہاد کے حوالے سے قرار دیا کہ خریدار کو تحریری نوٹس کی باقاعدہ تعمیل بھی ثابت کرنا ضروری ہے۔ فیصلے کے مطابق خریدار نے نوٹس وصول کرنے سے واضح طور پر انکار کیا تھا، اس لئے مدعی پر نوٹس کی تیاری، ارسال اور خریدار کو اس کی باقاعدہ وصولی ثابت کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی تھی۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مقدمے میں پیش کیا گیا پوسٹل ریکارڈ نوٹس کی اصل وصولی ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں تھا۔

عدالت نے نشاندہی کی کہ جس ڈاکیے نے گواہی دی وہ وہ شخص نہیں تھا جس نے مبینہ طور پر نوٹس خریدار کی رہائش گاہ پر پہنچا کر اسے دیا تھا۔ اس کی گواہی زیادہ سے زیادہ ڈاک بھیجے جانے یا پوسٹل آرٹیکل کے وجود کو ثابت کر سکتی تھی، نوٹس کی خریدار کو اصل ترسیل اور وصولی کو نہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ خریدار کے واضح انکار کی موجودگی میں نوٹس کی اصل ترسیل کرنے والے شخص کی گواہی خاص اہمیت رکھتی تھی، جسے پیش نہ کئے جانے کے باعث مدعی طلبِ اشہاد کی قانونی تعمیل ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ طلبِ مواثبت اور طلبِ اشہاد محض رسمی کارروائیاں نہیں بلکہ قانونی حقِ شفعہ کے استعمال اور تحفظ کے لئے بنیادی شرائط ہیں۔

ان میں سے کسی ایک کی بھی قانونی طور پر تکمیل اور ثبوت نہ ہونا دعوے کے لئے فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں کے بیک وقت دیئے گئے فیصلے اس وقت برقرار نہیں رہ سکتے جب شواہد کو غلط طور پر پڑھا یا نظر انداز کیا گیا ہو اور متعلقہ قانونی دفعات کا غلط اطلاق کیا گیا ہو۔سپریم کورٹ نے اپیل منظور کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کے فیصلے اور ڈگریاں کالعدم قرار دیں اور راجہ خوشدل عباسی کا حقِ شفعہ کا دعویٰ خارج کر دیا تاہم اخراجات کے حوالے سے کوئی حکم جاری نہیں کیا۔