ملتان ،خوا تین میں سن بلاک کے استعمال کے رجحان میں اضافہ

ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے مختلف شہروں میں خوا تین میں سن بلاک کے استعمال کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہر امراض جلد ڈاکٹر بلال قریشی نے اے پی پی سے گفتگو کرتے بتایا ہے کہ روزانہ SPF 30 یا اس سے زیادہ طاقت والے براڈ سپیکٹرم سن بلاک کا استعمال جلد کو سور ج کی مضر شعاعوں سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا …

ملتان۔ 15 جون (اے پی پی):ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے مختلف شہروں میں خوا تین میں سن بلاک کے استعمال کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہر امراض جلد ڈاکٹر بلال قریشی نے اے پی پی سے گفتگو کرتے بتایا ہے کہ روزانہ SPF 30 یا اس سے زیادہ طاقت والے براڈ سپیکٹرم سن بلاک کا استعمال جلد کو سور ج کی مضر شعاعوں سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ باقاعدہ استعمال سے جلدی کینسر کے بعض خطرات میں 40 سے 50 فیصد تک کمی اور قبل از وقت جھریوں، داغ دھبوں اور رنگت کی خرابی سے بچاؤ ممکن ہے،ملتان پاکستان کے گرم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے جہاں گرمیوں میں UV انڈیکس خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے۔ خواتین، خصوصاً طالبات، ملازمت پیشہ خواتین اور گھریلو خواتین جو روزانہ دھوپ میں نکلتی ہیں کے لیے سن بلاک کااستعمال انتہائی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ دھوپ سےجلدپرمیلازما،فریکلز، ہائپر پگمنٹیشن اور قبل از وقت بڑھاپے کے آثار نمایاں ہو سکتے ہیں۔ماہر جلد ڈاکٹر عائشہ سعید نے بتایا کہ اکثر خواتین صرف گرمیوں میں سن بلاک استعمال کرتی ہیں جبکہ UV شعا عیں سردیوں اور ابر آلود موسم میں بھی موجود رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سن بلاک گھر سے نکلنے سے تقر یباً 20 سے 30 منٹ قبل لگانا چاہیے اور ہر دو گھنٹے بعد دوبارہ استعمال کرنا زیادہ موثر رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ طبی تحقیق کے مطابق پاکستان میں گرمیوں کے دوران UV انڈیکس 10 سے 12 تک پہنچ جاتا ہے جو عالمی معیار کے مطابق انتہائی خطرناک سطح تصور کی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس شدت کی دھوپ جلد کے خلیات کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور رنگت کی خرابی سمیت متعدد مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین میں سن بلاک کے استعمال سے متعلق آگاہی میں اضافہ ضرور ہوا ہے، تاہم اب بھی بڑی تعداد میں خواتین مناسب مقدار استعمال نہیں کرتیں۔ ایک تحقیق کے مطابق اکثر افراد مطلوبہ مقدار سے نصف سن بلاک استعمال کرتے ہیں جس سے اس کی موثریت کم ہو جاتی ہے۔ملتان کی مختلف جامعات اور کالجوں میں زیر تعلیم طالبات نےبتایا کہ جلد کو ٹیننگ، داغ دھبوں اور سورج کی تیز شعاعوں سے بچانے کے لیے سن بلاک ان کی روزمرہ روٹین کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صرف سن بلاک کافی نہیں بلکہ چھتری، سن گلاسز، ٹوپی اور مناسب لباس کا استعمال بھی ضروری ہے۔ماہرینِ جلد نے کہا کہ ملتان جیسے گرم خطے میں خواتین کے لیے سن بلاک کا روزانہ استعمال ایک صحت مند عادت ہے ۔