اسلام آباد ۔ 7 مارچ (اے پی پی) وزارت خزانہ نے میڈیا کے بعض حصوں میں شائع ہونے والی ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے جس میں جاری اقتصادی صورتحال کی وجہ سے رواں سال بے روزگاری کی شرح 8 فیصد رہنے، اس کے نتیجہ میں 10 لاکھ افرادکے بے روزگار ہونے، مہنگائی میں 24 فیصد اضافہ اور مزید ایک کروڑ افراد کے غربت کی لکیرکے نیچے جانے کے …
ملکی معیشت کے استحکام کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں
اسلام آباد ۔ 7 مارچ (اے پی پی) وزارت خزانہ نے میڈیا کے بعض حصوں میں شائع ہونے والی ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے جس میں جاری اقتصادی صورتحال کی وجہ سے رواں سال بے روزگاری کی شرح 8 فیصد رہنے، اس کے نتیجہ میں 10 لاکھ افرادکے بے روزگار ہونے، مہنگائی میں 24 فیصد اضافہ اور مزید ایک کروڑ افراد کے غربت کی لکیرکے نیچے جانے کے مبالغہ آمیز دعوے کئے گئے ہیں۔ یہاں جاری بیان میں ترجمان وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ مذکورہ خبر میں بے روزگاری کے حوالے سے جو دعوے کئے گئے ہیں ان کی تصدیق کیلئے کوئی ثبوت فراہم نہیں کئے گئے۔ علاوہ ازیں لیبر فورس کے تازہ ترین سروے ابھی تک شائع بھی نہیںہوا، روزگارکے حوالہ سے صورتحال کی حقیقی عکاسی اور اعدادوشمار پاکستان بیور وبرائے شماریات کی جانب سے لیبر سروے کی اشاعت کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ ترجمان نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ملک کی اقتصادی حالت میں دن بدن بہتری آ رہی ہے، ملکی معیشت کے استحکام کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، معاشی اشاریوں میں بہتری سے اس کی عکاسی ہوتی ہے۔ ترجمان نے کہاکہ جولائی سے لیکرجنوری تک کے عرصہ میں حسابات جاریہ کے خسارے میں 72 فیصد کمی ہوئی، اس عرصہ میں سمندرپارمقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زرمیں 4.1 فیصد اضافہ ہوا، ملک میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 65.7 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، برآمدات میں اضافہ کی شرح 3.6 فیصد ریکارڈ کیا گیا، مالیاتی خسارے کو 2.3 فیصد کی سطح پررکھا گیا، ایف بی آر کی جانب سے محصولات وصولیوں کی شرح میں 17.1 فیصد اضافہ ہوا، معشیت کے کلیدی اشاریوں میں بہتری حکومت کی جانب سے معشیت کے استحکام اورمعیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے اقدامات کی کامیابی کی عکاسی کرتے ہیں۔ترجمان وزارت خزانہ نے کہاکہ اسی طرح بے روزگاری کی شرح اور اس میں متوقع اضافہ کادعویٰ بھی حقائق کے منافی اوربے بنیاد ہیں، ابھی تک لیبر فورس کے حوالہ سے سروے شائع نہیں ہواہے، اس حوالہ سے درست اور حقیقی اعدادوشمار پاکستان بیوروبرائے شماریات کے شائع کردہ سروے میں سامنے آئیں گے تاہم روزگار کے مواقع میں اضافہ حکومت کے اقتصادی اصلاحات کے ایجنڈا کا اہم ہدف ہے، زرعی شعبہ کی بہتری اوردیہی علاقوں میں روزگارکے مواقع بڑھانے کیلئے حکومت نے قومی زرعی ہنگامی پروگرام کا آغازکردیاہے، اسی طرح وفاقی حکومت نے صنعتی شعبے میں تیزی لانے اوراس شعبے میں روزگارکے مواقع بڑھانے کیلئے زرتلافیوں اورمراعات کا سلسلہ شروع کیا ہے، ان میں بجلی اورگیس پرسبسڈی، ایکسپورٹ ڈولپمنٹ پیکج، طویل المعیاد ٹریڈ فنانسنگ اور ایکسپورٹ ری فنانسنگ سکیم پرزرتلافی شامل ہیں۔ترجمان نے کہاکہ حکومت نے 10 بلین ٹری سونامی کیلئے 125.184 ارب روپے کی کثیررقم مختص کی ہے، اس سے 20 لاکھ افراد کوروزگارکی فراہمی میں مدد ملے گی، ابھی تک اس منصوبہ کیلئے 6 ارب روپے کے فنڈز ریلیز ہوچکے ہیں۔کامیاب جوان پروگرام یوتھ انٹرپرینورشپ پروگرام کیلئے جنوری 2020 تک 128 ملین روپے فراہم کئے گئے، نوجوانوں کو ہنر سکھانے کیلئے ہنرمند پاکستان کا منصوبہ شروع کیا گیاہے جس پر10 ارب روپے کی لاگت آئیگی، اب تک اس پروگرام کیلئے1.5 ارب روپے فراہم کئے گئے ہیں۔کمپوٹر اینڈ انفارمیشن سسٹم میںفری لانس سروس کیلئے سٹیٹ بنک نے ادائیگی کی حد 5 ہزارڈالر ماہانہ سے بڑھاکر25 ہزارڈالر ماہانہ کردی ہے، اس سے فری لانسرز کو اپنے بزنس کے دائرہ کارکووسعت دینے اور اس شعبے کے افرادی قوت میں اضافہ میں مددملے گی۔ترجمان نے کہاکہ جاری مالی سال کیلئے سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام کا حجم 561 ارب روپے سے بڑھا کر701 ارب روپے کردیاگیا جس کے نجی سرمایہ کاری پر بہترین اثرات مرتب ہوں گے۔28 فروی 2020ء تک پی ایس ڈی پی کے تحت 464.7 ارب روپے کے فنڈز جاری ہوچکے ہیں، گزشتہ سال اسی عرصہ میں پی ایس ڈی پی کے تحت 365.23 ارب روپے کے فنڈز جاری کئے گئے تھے، موجودہ حکومت نے پی ایس ڈی پی کے تحت فنڈز کے اجراء کا طریقہ کارسہل اورآسان بنادیاہے ۔ترجمان وزارت خزانہ نے کہاکہ حکومت مہنگائی پرقابوپانے کیلئے تمام کوششیں بروئے کارلارہی ہیں، مارکیٹ میں بنیادی اشیاء ضروریہ کی وافرمقدارمیں فراہمی، ذخیرہ اندوزی، سمگلنگ اورناجائز منافع خوری کے خاتمے کیلئے جامع اقدامات کئے گئے ہیں، وفاقی اورصوبائی سطح پر قیمتوں پر نظررکھنے کیلئے نگرانی کے موثرنظام کو یقینی بنایا گیاہے۔ ترجمان نے کہاکہ افراط زر کے حوالہ سے حالیہ اعدادوشمار سے واضح ہوا ہے کہ فروری کے مہینہ میں عام آدمی کیلئے قیمتوں کے حساس اشاریہ (سی پی آئی) میں ایک فیصدکی نمایاں کمی ہوئی ہے ، موجودہ حکومت نے قیمتوں پرقابوپانے کیلئے کئی پالیسی اقدامات کئے ہیں، کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے تین لاکھ ٹن گندم کی درآمد کی منظوری دی ہے تاکہ مقامی سطح پرگندم کی قیمتوں میں کمی لائی جاسکے۔اس کے ساتھ ساتھ ای سی سی نے گندم کی درآمد پر60 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی اور7 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس ختم کردیاہے۔ترجمان نے کہاکہ حکومت نے چینی کی قیمتوں پرقابوپانے کیلئے چینی کی برآمدپرپابندی عائد کردی ہے۔ترجمان نے کہاکہ حکومت نے سٹیٹ بنک سے قرضے لینے کاسلسلہ بندکردیاہے اس کی بجائے کمرشل بنکوں کی طرف رجوع کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ جولائی سے لیکرفروری 2020ء تک حکومت نے 757 ارب روپے کا قرضہ واپس کیا، گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں 1487.5 ارب روپے کا قرضہ حاصل کیا گیا تھا۔ ترجمان نے کہاکہ مالی خسارے پرقابوپانے کیلئے حکومت نے ضمنی گرانٹس پر پابندی عائد کردی ہے تاکہ افراط زرکے دبائو میں کمی لائی جائے، اوسط طلب میں کمی اور افراط زرپرقابوپانے کیلئے سٹیٹ بنک نے جولائی 2018ء سے پالیسی ریٹ کی شرح 13.25 بی پی ایس مقرر کی ہے۔ترجمان نے کہاکہ وزارت قومی غذائی تحفظ نے ضروری اشیاء کی قیمتوں کی نگرانی کررہی ہے، ملک میں اشیاء ضروریہ کی وافرمقدارمیں فراہمی کیلئے حکومت نے یوٹیلیٹی سٹورز کی آوٹ لیٹس اورسستابازاروں کی تعداد میں اضافہ کردیا ہے، کارٹلائزیشن اور ناجائز منافع خوری کے تدارک کیلئے مسابقتی کمیشن نے موثراقدامات کئے ہیں، مسابقتی کمیشن کو اس ضمن میں ضروری ہدایات جاری کی جاچکی ہیں تاکہ مسابقتی ماحول کے منافی طرزعمل کا تدارک کیاجاسکے۔ترجمان نے کہاکہ حکومت کی جانب سے اٹھائے جانیوالے ان اقدامات کے مثبت نتائج دالوں، تازہ سبزی، اورگندم کی قیمتوں میں مسلسل کمی کی صورت میں سامنے آرہی ہیں۔27 فروری کو ختم ہونے والے ہفتہ کے دوران قیمتوں کے حساس اشاریہ (ایس پی آئی) مین 1.16 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ ترجمان نے کہاکہ معاشرے کے کم آمدنی والے طبقات کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کیلئے حکومت نے 300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیلئے 226.5 ارب روپے کی زرتلافی دی ہے، اس مد میں جولائی سے لیکر فروری 2020ء تک 131.9 ارب روپے فراہم کئے گئے ہیں۔ اسی طرح گیس کی مدمیں 24 ارب روپے کی زرتلافی کا اعلان کیا گیاہے جن میں سے جاری مالی سال کے ابتدائی 7 ماہ میں 15.5 ارب روپے فراہم کئے گئے۔اسی طرح عام آدمی کو مناسب قیمت پراشیاء صرف کی فراہمی کیلئے یوٹیلیٹی سٹورکارپوریشن کو زرتلافی دی گئی ہے۔ ترجمان نے کہاکہ غربت کی شرح میں اضافہ سے متعلق دعویٰ بھی بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے، حکومت نے اصلاحات کے پروگرام سے معاشرے کے کم آمدنی والے طبقات کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے جامع اقدامات کئے ہیں ، اس پروگرام کے نتیجہ میں معیشت کو پائیداربنیادوں پراستوارکیا جارہاہے، سماجی تحفظ کے جامع احساس پروگرام کے ذریعے کئی منصوبے شروع کئے گئے ہیں جن میں صحت سہولت، وسیلہ تعلیم، ٹری سونامی، کلین اینڈگرین پاکستان وغیرہ قابل ذکرہیں۔احساس کے انڈرگریجوویٹس پروگرام کے تحت ایچ ای سی کے تحت 2 لاکھ نوجوانوں کو وظائف دئیے جارہے ہیں ،یہ ملکی تاریخ میں حکومتی وسائل سے غریب اورمستحق طلباء وطالبات کیلئے اب تک کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔









