امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’لیک امریکا‘رکھنے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں، جس سے امریکا اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
امریکی صدر کے کینیڈا سے تجارتی کشیدگی کے دوران جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرنے کے حکم نامے پر دستخط
واشنگٹن۔28اگست (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’لیک امریکا‘رکھنے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں، جس سے امریکا اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
شنہوا کے مطابق اوول آفس میں حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جھیل اونٹاریو کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے ’’لیک امریکا‘‘ رکھا جائے گا۔ جھیل اونٹاریو شمالی امریکا کی پانچ بڑی جھیلوں میں شامل ہے اور اس کی سرحد امریکا اور کینیڈا کے درمیان واقع ہے۔یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہونے اور نئے جوابی محصولات عائد کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ امریکا نے 22 اگست کو تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین اشیا پر 50 فیصد محصولات عائد کیے تھے، جس کے جواب میں کینیڈا نے بھی امریکی درآمدات پر ’’ڈالر کے بدلے ڈالر‘‘ کی بنیاد پر جوابی محصولات کا اعلان کیا ہے۔کینیڈین وزیر صنعت میلانی جولی نے کہا ہے کہ کینیڈا اس نئے نام کو تسلیم نہیں کرے گا اور پانی کے اس ذخیرے کو ہمیشہ ’’لیک اونٹاریو‘‘ ہی کہا جائے گا۔ٹرمپ نے جنوری 2025 میں خلیج میکسیکو کا نام تبدیل کرکے ’’گلف آف امریکا‘‘ رکھنے کا حکم بھی جاری کیا تھا۔







