اسلام آباد۔11دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان انسداد پولیو پروگرام نے اس سال کی پانچویں اور آخری قومی پولیو مہم کا آغاز کر دیا ہے جس کا مقصد 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو اس موذی مرض سے پیدا ہونے والی معذوری سے بچانا اور محفوظ بنانا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پولیو کے خاتمے کے لیے قائم …
مسلسل ویکسینیشن کی بدولت آج پولیو کے کیسز ہزاروں کی بجائے صرف دو ہندسوں تک محدود ہوچکے ہیں، وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال

مزید خبریں
اسلام آباد۔11دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان انسداد پولیو پروگرام نے اس سال کی پانچویں اور آخری قومی پولیو مہم کا آغاز کر دیا ہے جس کا مقصد 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو اس موذی مرض سے پیدا ہونے والی معذوری سے بچانا اور محفوظ بنانا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پولیو کے خاتمے کے لیے قائم نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر میں مہم کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر انہوں نے نیشنل ای او سی کوآرڈینیٹر محمد انوار الحق کے بیٹے سمیت بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے اور پاکستان اور دنیا بھر کے ہر بچے کو پولیو کے عالمی و علاقائی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے حکومت کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔سات روزہ قومی پولیو مہم 15 تا 21 دسمبر جاری رہے گی جس کے دوران 4 لاکھ سے زائد پولیو ورکرز گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے دو قطرے پلائیں گے۔ 1994ء میں پاکستان انسداد پولیو پروگرام کے آغاز سے لے کر اب تک گھر گھر پولیو ویکسینیشن مہمات کے نتیجے میں پولیو کے سالانہ کیسز میں 99.6 فیصد کمی آئی ہے جو 20,000 سالانہ کیسز سے کم ہو کر 2024ء میں 74 رہ گئے اور اس سال اب تک 30 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
وزیر صحت سید مصطفٰی کمال نے کہا کہ اس سال 30 بچے پولیو کا شکار ہوئے جن میں سے نصف سے زائد صرف جنوبی خیبر پختونخوا میں ہیں، یہ ظاہر کرتا ہے کہ بچوں تک ویکسین پہنچانے میں کمی خطرہ بڑھا دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف اعداد و شمار نہیں ، ہر کیس ایک بچے کے مستقبل، ایک خاندان اور پوری کمیونٹی کے لیے خطرہ ہے ، پولیو کا خطرہ ہمارے درمیان موجود ہے۔ انہوں نے 2025ء کی آخری مہم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلسل ویکسینیشن کی بدولت آج پولیو کے کیسز ہزاروں کی بجائے صرف دو ہندسوں تک محدود ہیں تاہم ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مسلسل موجودگی ملک بھر کے بچوں کے لیے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہے۔وفاقی وزیر صحت نے والدین، دیکھ بھال کرنے والوں، مذہبی رہنمائوں، کمیونٹی کے بزرگوں، عوامی نمائندوں اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ انسداد پولیو کے حوالے سے اپنی ذمہ داری ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ جب پولیو ورکر آپ کے گھر آئیں تو انہیں خوش آمدید کہیں اور یقینی بنائیں کہ آپ کے گھر میں موجود پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلائے جائیں، میں آپ سے یہ بھی کہتا ہوں کہ کمیونٹی میں ویکسینیشن کے علمبردار بنیں اور اپنے بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلا کر مثال قائم کریں۔ان کا کہنا تھا کہ پولیو ویکسین محفوظ ہے اور یہ بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچاتی ہے، جیسا کہ آپ نے آج دیکھا ہم خود اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوا رہے ہیں، ہم سب مل کر اس مہم کو کامیاب بنا سکتے ہیں اور اپنے بچوں کے پولیو سے پاک مستقبل کو یقینی بنا سکتے ہیں۔افتتاحی تقریب میں بین الاقوامی شراکت داروں کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ قومی پولیو پروگرام کی مرکزی ٹیم کے اراکین بھی موجود تھے۔
دسمبر کی مہم کے دوران پنجاب میں 2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد بچے، سندھ میں 1 کروڑ 6 لاکھ سے زائد بچے، خیبرپختونخوا میں 72 لاکھ سے زائد بچے، بلوچستان میں 26 لاکھ سے زائد بچے، آزاد جموں و کشمیر میں 7 لاکھ 60 ہزار سے زائد بچے، گلگت بلتستان میں 2 لاکھ 28 ہزار سے زائد بچے اور اسلام آباد میں 4 لاکھ 60 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلائے جائیں گے۔یہ مہم ہمسایہ ملک افغانستان میں جاری پولیو مہم کے ساتھ ہم آہنگ ہے جو سرحد پار وائرس کے پھیلائو کو روکنے اور دونوں جانب کے بچوں کے تحفظ کے لیے ایک مربوط اور اہم اقدام ہے۔
زیادہ خطرے والے اضلاع اور متحرک آبادیوں میں بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی جس میں نقل مکانی کرنے والی آبادیوں اور سرحدی علاقوں میں مقیم کمیونٹیز شامل ہیں جہاں پولیو وائرس کے پھیلائو اور منتقلی کا خطرہ زیادہ ہے۔پولیو پروگرام والدین، بچوں کی دیکھ بھال کرنے والوں، کمیونٹی رہنمائوں اور معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس اہم قومی کوشش میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
پاکستان کے بچوں کو پولیو کے خطرے سے محفوظ رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جو اجتماعی عزم اور مسلسل کوششوں کا تقاضا کرتی ہے۔ ہر بچے کو پولیو ویکسین کی فراہمی یقینی بنا کر قوم پولیو سے پاک پاکستان کے ہدف کے حصول کی جانب ایک اہم قدم بڑھا رہی ہے۔انسداد پولیو مہم کے دوران اور بعد میں صحت تحفظ ہیلپ لائن 1166 اور واٹس ایپ ہیلپ لائن 03467776546 والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں کی رہنمائی کے لیے دستیاب رہیں گی، یہاں وہ نہ صرف پولیو ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کی اطلاع دے سکیں گے بلکہ دیگر متعلقہ معلومات بھی حاصل کر سکیں گے۔








