ملک میں پانی کی شدید قلت کے تناظر میں آبی ذخائر کے اضافہ کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے، ایف پی سی سی آئی کی آبی ذرائع ایڈوائزری کمیٹی کی رپورٹ

اسلام آباد ۔ یکم اکتوبر (اے پی پی) پاکستان کے جنوب مشرقی حصہ میں سالانہ 125 ملی میٹر جبکہ شمال مغرب میں 750 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔ بارش سے ملک کو سالانہ 32 ارب مکعب میٹر پانی حاصل ہوتا ہے۔ وفاق ایوانہائے صنعت و تجارت پاکستان (ایف پی سی سی آئی) کی آبی ذرائع ایڈوائزری کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ملک میں 9 لاکھ ٹیوب ویلز کے ذریعے 59 …

اسلام آباد ۔ یکم اکتوبر (اے پی پی) پاکستان کے جنوب مشرقی حصہ میں سالانہ 125 ملی میٹر جبکہ شمال مغرب میں 750 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔ بارش سے ملک کو سالانہ 32 ارب مکعب میٹر پانی حاصل ہوتا ہے۔ وفاق ایوانہائے صنعت و تجارت پاکستان (ایف پی سی سی آئی) کی آبی ذرائع ایڈوائزری کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ملک میں 9 لاکھ ٹیوب ویلز کے ذریعے 59 ارب مکعب میٹر پانی حاصل کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ تربیلا اور منگلا ڈیمز اور 48 بڑی نہروں اور 19 بیراجوں سے مجموعی طور پر 71 ارب مکعب میٹر پانی حاصل ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2000ءمیں زرعی شعبہ میں پانی کی کل کھپت 69 فیصد، صنعتی شعبہ میں 23 فیصد اور گھریلو صارفین کی کھپت 8 فیصد تھی لیکن 2016ءتک زرعی شعبہ کی پانی کی کھپت 88.9 فیصد، صنعتی شعبہ میں 3.4 فیصد اور گھریلو صارفین کی 6.5 فیصد ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق 1950ءمیں ملک میں اوسط فی کس پانی کی دستیابی 5300 مکعب میٹر تھی جو 2015ءمیں 1014 کیوبک میٹر تک کم ہو گئی۔

مزید خبریں