وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت خطے کی صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات کے نفاذ پر جائزہ اجلاس منگل کو یہاں ہوا جس میں کفایت شعاری اور بچت کے اقدامات پر عملدرآمد کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔
ملک میں پٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے،صورتحال کی نگرانی کی جارہی ہے،وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد۔17مارچ (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت خطے کی صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات کے نفاذ پر جائزہ اجلاس منگل کو یہاں ہوا جس میں کفایت شعاری اور بچت کے اقدامات پر عملدرآمد کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی طارق باجوہ، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اس موقع پروزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کی پٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین کو بہتر بنانے کیلئے وزیرِ پٹرولیم کو مزید متحرک ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے،انٹیلی جنس بیورو تمام اقدامات پر عملدرآمد کی نگرانی رپورٹ پیش کرے گی،ملک میں پٹرولیم مصنوعات کا ضروریات کے مطابق مناسب ذخیرہ موجود ہے،تمام صورتحال کی نگرانی کی جارہی ہےاور پٹرولیم مصنوعات کا ریکارڈ رکھا جارہا ہے تاکہ کسی قسم کی بے قاعدگی کی فوری نشاندہی ہوسکے ۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ تمام کابینہ ارکان نے رضاکارانہ طور تنخواہیں نہیں لیں،سرکاری محکموں کی تیل کی کٹوتی کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں،بچت کے اقدامات سے موجودہ صورتحال میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں مدد ملے گی،ملکی ضروریات پوری کرنے کیلئے ملک میں ادویات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے،ورک فرام ہوم کے حوالے سے سرکاری ای-آفس کی سہولت فراہم کرنے کے لئے خصوصی کنیکٹیویٹی کے انتظامات وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی جانب سے کیے جا چکے ہیں ۔








