ملک میں کورونا کے مثبت کیسسز کا تناسب 6.59 فیصد ہے، این سی او سی

اسلام آباد۔12دسمبر (اے پی پی):این سی او سی کے مطابق اس وقت ملک میں کورونا کے مثبت کیسسز کا تناسب 6.59 فیصد ہے۔ہفتہ کے روز این سی او سی کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق سب سے زیادہ کورونا کیسسز کا مثبت تناسب کراچی میں 20.88 فیصد دیکھا گیا ، اس کے بعد پشاور میں 15.05 فیصد اور مظفر آباد میں 11.20 فیصد رہا۔ملک بھر میں 2 ہزار …

اسلام آباد۔12دسمبر (اے پی پی):این سی او سی کے مطابق اس وقت ملک میں کورونا کے مثبت کیسسز کا تناسب 6.59 فیصد ہے۔ہفتہ کے روز این سی او سی کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق سب سے زیادہ کورونا کیسسز کا مثبت تناسب کراچی میں 20.88 فیصد دیکھا گیا ، اس کے بعد پشاور میں 15.05 فیصد اور مظفر آباد میں 11.20 فیصد رہا۔ملک بھر میں 2 ہزار 470 کورونا مریضوں کی حالت تشویشناک ہے اور تشویشناک حالت والے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔مختلف وفاقی اکائیوں میں کورونا کے مثبت کیسسز مثبتیت کے تناسب کے لحاظ سے آزاد جموں کشمیر میں 8.70 فیصد ، بلوچستان میں 10.48 فیصد،گلگت بلتستان میں 1.23 فیصد ، اسلام آباد میں 4.27 فیصد،خیبر پختونخوا میں 4.12 فیصد ، پنجاب میں 3.87 فیصد اور سندھ میں 12.91 فیصد رہا۔اسی طرح سے صوبوں کے مختلف شہروں میں کورونا کیسسز کے مثبت تناسب کے لحاظ سے پنجاب میں لاہور 4.56 فیصد، راولپنڈی – 9.94 فیصد، فیصل آباد 2.36 فیصدملتان 1.90 فیصد، گوجرانوالہ 2.80 فیصد. سندھ کے شہروں جن میں کراچی – 20.88 فیصدحیدرآباد 8.33 فیصد رہا۔اسی طرح سے خیبرپختونخوا کے شہروں پشاور 15.05 فیصد،
سوات 5.76 فیصد،ایبٹ آباد – 8.60 فیصد۔بلوچستان کے شہرکوئٹہ میں 3.72 فیصد تناسب رہا۔وفاقی دارالحکومت میں 4.27 فیصد۔آزاد کشمیر کے شہروں میں میرپور۔ 7.87 فیصد،مظفرآباد – 11.20 فیصد۔گلگت بلتستان کے شہروں میں سے گلگت میں 0 فیصد تناسب دیکھا گیا۔اسی طرح سے پوری دنیا میں ہونے والی اموات کی طرح ملک میں ہونے والی اموات کی تعداد 8 ہزار 724 ہے جو کہ پوری دنیا میں ہونے والی اموات کے 2.24 فیصد تناسب کے مقابلے میں 2 فیصد ہے۔ملک میں ہونے والی اموات میں سے 71 فیصد مرد جاں بحق ہوئے اور جاں بحق ہونے والوں میں سے 76 فیصد افراد وہ تھے جنکی عمریں 50 سال سے زائد تھی۔جاں بحق ہونے والوں میں سے 72 فیصد افراد مختلف بیماریوں میں مبتلا تھے اور جاں بحق افراد میں سے 91 فیصد ہسپتالوں میں زیر علاج تھے جبکہ 58 فیصد مریض وینٹیلیٹرز پر دوران علاج جاں بحق ہوئے۔