منی لانڈرنگ اور ہنڈی مافیا کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کا فیصلہ، جوائنٹ ورکنگ گروپ تشکیل

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں ملک سے غیر قانونی طور پر رقوم کی منتقلی روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسلام آباد۔17مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں ملک سے غیر قانونی طور پر رقوم کی منتقلی روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ منی لانڈرنگ اور ہنڈی کے کاروبار میں ملوث بڑے کاروباری افراد اور اداروں کے خلاف شکنجہ سخت کیا جائے گا اور اس ضمن میں کسی سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔سٹیٹ بینک اور ایف آئی اے پر مشتمل ایک مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دے دیا گیا ہے جو تمام متعلقہ امور پر پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لے گا۔

بیرون ملک رقوم بھجوانے کے پورے نظام کو شفاف اور فول پروف بنایا جائے گا۔ اب رقوم صرف بینکنگ اور دیگر قانونی چینلز کے ذریعے ہی منتقل کی جا سکیں گی۔ منی چینجرز کے ذریعے رقوم کی منتقلی کے عمل کو سٹریم لائن کیا جائے گا تاکہ غیر قانونی ذرائع کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی ہو سکے۔وفاقی وزرامحسن نقوی اور محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ ہنڈی کا کاروبار کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گااور بڑے منی لانڈرز پر مضبوط ہاتھ ڈالا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت کے تحفظ کے لیے قانونی چینلز کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔گورنر سٹیٹ بینک نے اجلاس کو بینکنگ چینلز سے رقوم کی ترسیل کے موجودہ نظام اور اسے مزید بہتر بنانے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں ڈی جی ایف آئی اے، وفاقی سیکرٹری خزانہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔