بینکنگ کورٹ نے سات ارب روپے کی مبینہ مشکوک مالی لین دین اور منی لانڈرنگ کیس میں نجی کمپنی کے سی ای او سمیت پانچ ملزمان کی عبوری ضمانتیں خارج کر دیں۔
منی لانڈرنگ کے الزام میں نجی کمپنی کے سی ای او سمیت پانچ ملزمان کی عبوری ضمانتیں خارج

مزید خبریں
لاہور۔11جولائی (اے پی پی):بینکنگ کورٹ نے بے نامی اکائونٹس کے ذریعے سات ارب روپے کی مشکوک مالی لین دین اور مبینہ منی لانڈرنگ کے الزام میں درج مقدمے میں نجی کمپنی کے سی ای او شیخ منیر سمیت پانچ ملزمان کی عبوری ضمانتیں خارج کر دیں۔
ایف آئی اے بینکنگ کورٹ کے جج نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے عبوری ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ سماعت کے دوران ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر رانا عزیر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے اکائونٹس کے ذریعے7ارب روپے کی مشکوک ٹرانزیکشنز کی گئیں، بے نامی اکائونٹس جعلی دستخطوں کے ذریعے کھلوائے گئے اور ملزمان نے بینک ملازمین کی مبینہ ملی بھگت سے ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کی۔ ایف آئی اے کے مطابق جن افراد کے نام پر اکائونٹس کھولے گئے انہوں نے لاتعلقی ظاہر کی، جبکہ اسی مقدمے میں ایک اور ملزم مظہر کی ضمانت لاہور ہائیکورٹ پہلے ہی مسترد کر چکی ہے۔ استغاثہ کے مطابق مقدمے میں نجی کمپنی کے مالک شیخ منیر، ان کے بیٹے ڈاکٹر عامر رضا، ارسلان احمد، عبداللہ مسعود اور مقصود احمد نامزد ہیں۔ عدالت نے ایف آئی اے کے دلائل اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد پانچوں ملزمان کی عبوری ضمانتیں خارج کرنے کا حکم دے دیا۔








