نوجوان آبادی پاکستان کی سب سے بڑی معاشی طاقت بن سکتی ہے، قائم مقام صدر آئی سی سی آئی

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے قائم مقام صدر طاہر ایوب نے کہا ہے کہ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے، جسے معیاری تعلیم، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، جدید مہارتوں اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کر کے قومی ترقی اور معاشی استحکام کا ضامن بنایا جا سکتا ہے۔

اسلام آباد۔11جولائی (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے قائم مقام صدر طاہر ایوب نے کہا ہے کہ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے، جسے معیاری تعلیم، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، جدید مہارتوں اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کر کے قومی ترقی اور معاشی استحکام کا ضامن بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ آبادی میں اضافے کو چیلنج کے بجائے معاشی مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے ایک جامع قومی حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ پاکستان اپنی آبادیاتی صلاحیت سے بھرپور استفادہ کر سکے۔

انہوں نے یہ بات ہفتہ کو عالمی یومِ آبادی کے موقع پر چیمبر ہاؤس میں مختلف کاروباری وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی یومِ آبادی اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ پائیدار ترقی کے لیے آبادی میں اضافے، انسانی وسائل کی ترقی اور معاشی منصوبہ بندی کے درمیان متوازن ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ کسی بھی قوم کی حقیقی طاقت صرف اس کی آبادی کی تعداد میں نہیں بلکہ اس بات میں مضمر ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تعلیم، ہنر اور مواقع فراہم کر کے قومی ترقی میں کس حد تک مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔طاہر ایوب نے کہا کہ پاکستان نوجوان آبادی کے لحاظ سے دنیا کے اہم ممالک میں شمار ہوتا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک غیر معمولی موقع فراہم کرتی ہے۔

اگر نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید تکنیکی و ڈیجیٹل مہارتیں، صحت کی بہتر سہولیات اور باعزت روزگار میسر آئے تو وہ صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے، جدت اور سرمایہ کاری کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم اگر انسانی وسائل کی ترقی پر بروقت سرمایہ کاری نہ کی گئی تو یہی آبادی معاشی اور سماجی مسائل میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نجی شعبہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، نوجوانوں میں کاروباری رجحان پیدا کرنے اور افرادی قوت کی استعداد بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت، نجی شعبے، جامعات اور تربیتی اداروں کے درمیان مؤثر اشتراک ناگزیر ہے تاکہ نوجوانوں کو عالمی منڈی کے تقاضوں سے ہم آہنگ مہارتیں فراہم کی جا سکیں۔قائم مقام صدر آئی سی سی آئی نے مزید کہا کہ پالیسیوں کا تسلسل، معاشی استحکام اور کاروبار دوست ماحول ہی سرمایہ کاری میں اضافے اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنے کی بنیاد ہیں۔

انہوں نے صنعتی شعبے، انفارمیشن ٹیکنالوجی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) اور برآمدات پر مبنی صنعتوں کی سرپرستی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہی شعبے پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی اور عوامی خوشحالی کے ضامن ثابت ہوں گے۔اس موقع پر آئی سی سی آئی کے نائب صدر محمد عرفان چوہدری نے کہا کہ نوجوانوں کو فنی تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت، ڈیجیٹل مہارتوں اور کاروباری صلاحیتوں سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط اور فعال ایس ایم ای سیکٹر، سازگار حکومتی پالیسیوں اور آسان مالیاتی سہولیات کی بدولت لاکھوں نئے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں، جو ملک میں جامع اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔

 

مزید خبریں