وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے ترجمان اور ماحولیاتی پالیسی کے ماہر محمد سلیم شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان میں آبادی میں تیز رفتار اضافہ ماحولیاتی پائیداری اورموسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی قومی صلاحیت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے جس سے نمٹنے کے لیے آبادی کے مؤثر انتظام کو موسمیاتی موافقت اور پائیدار ترقی کی حکمت عملی کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔
آبادی میں تیز رفتار اضافہ موسمیاتی لچک اور ماحولیاتی پائیداری کے اہداف کے حصول میں بڑی رکاوٹ بن چکا ہے، ترجمان وزارت موسمیاتی تبدیلی

مزید خبریں
اسلام آباد۔11جولائی (اے پی پی):وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے ترجمان اور ماحولیاتی پالیسی کے ماہر محمد سلیم شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان میں آبادی میں تیز رفتار اضافہ ماحولیاتی پائیداری اورموسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی قومی صلاحیت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے جس سے نمٹنے کے لیے آبادی کے مؤثر انتظام کو موسمیاتی موافقت اور پائیدار ترقی کی حکمت عملی کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔انہوں نے یہ بات عالمی یومِ آبادی کے موقع پر کہی جو ہر سال 11 جولائی کو تولیدی صحت، صنفی مساوات، انسانی حقوق، غربت اور پائیدار ترقی جیسے اہم موضوعات پر شعور اجاگر کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ نے 2026ء کے لیے’’آج اور مستقبل میں نوجوانوں کی امیدوں اور امنگوں کو حقیقت کا روپ دینا” کو عالمی موضوع قرار دیا ہے۔محمد سلیم شیخ نے کہا کہ موجودہ حکومت رضاکارانہ اور حقوق پر مبنی خاندانی منصوبہ بندی،خواتین کو بااختیار بنانے، تولیدی صحت کی سہولیات، تعلیم، صاف پانی، نکاسیٔ آب اور قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی آبادی تقریباً 25 کروڑ 90 لاکھ ہو چکی ہے اور سالانہ شرحِ اضافہ 2.55 فیصدہے، جبکہ ہر سال تقریباً67 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو آئندہ پانچ برسوں میں آبادی 30 کروڑ سے تجاوز کر جائے گی جس سے پانی، صحت، تعلیم، رہائش، روزگار اور بنیادی ڈھانچے پر غیر معمولی دباؤ بڑھے گا۔
انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی آبادی میں اضافے، شہری توسیع اور موسمیاتی تبدیلی کو پائیدار ترقی کے لیے بڑے چیلنج قرار دے چکے ہیں۔ پاکستان میں شرحِ پیدائش 3.6 بچے فی خاتون ہے جو جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے، جبکہ غذائی قلت، زچہ و بچہ کی اموات اور بنیادی سہولتوں پر بڑھتا ہوا دباؤ اس کے سنگین نتائج ہیں۔محمد سلیم شیخ نے کہا کہ آبادی میں بے ہنگم اضافہ پانی کی قلت، جنگلات کی کٹائی، زمینی انحطاط، حیاتیاتی تنوع میں کمی، فضائی آلودگی اور کچرے میں اضافے کا باعث بن رہا ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی ان مسائل کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
انہوں نےکہا کہ موسمیاتی لچک صرف شجرکاری یا سیلاب سے بچاؤ کے منصوبوں سے حاصل نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے لیے تعلیم، خواتین کی بااختیاری، خاندانی منصوبہ بندی، تولیدی صحت، صاف پانی، نکاسیٔ آب اور پائیدار شہری منصوبہ بندی میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت تمام متعلقہ اداروں کے تعاون سے ایسی مربوط پالیسیاں تشکیل دے رہی ہے جو آبادی میں متوازن اضافے، ماحولیاتی تحفظ،موسمیاتی لچک اور پائیدار معاشی ترقی کو یقینی بنا سکیں۔








