آپریشن بنیانٌ مرصوص نے پاکستان کی تزویراتی بصیرت، قومی استحکام اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو دنیا کے سامنے نمایاں کیا، احسن اقبال

وفاقی وزیر منصوبہ بندی،ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے پاکستان کی تزویراتی تبدیلی کو اجاگر کرتے ہوئے ’’اڑان پاکستان‘‘ کو ایک کھرب ڈالر کی معیشت کے حصول کا قومی روڈ میپ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی بحالی، قومی استحکام اور سفارتی کامیابیاں ملک کے روشن مستقبل کی مضبوط بنیاد بن چکی ہیں۔

اسلام آباد۔11جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی،ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے پاکستان کی تزویراتی تبدیلی کو اجاگر کرتے ہوئے ’’اڑان پاکستان‘‘ کو ایک کھرب ڈالر کی معیشت کے حصول کا قومی روڈ میپ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی بحالی، قومی استحکام اور سفارتی کامیابیاں ملک کے روشن مستقبل کی مضبوط بنیاد بن چکی ہیں۔وزارت کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے رائس یونیورسٹی میں طلبہ، اساتذہ، محققین اور پاکستانی برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تین اہم قومی سنگ میل عبور کرنے کے بعد ترقی اور مواقع کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی بحالی، قومی استحکام اور سفارتی کامیابیاں ملک کے روشن مستقبل کی مضبوط بنیاد بن چکی ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آپریشن بنیانٌ مرصوص کی کامیاب تکمیل نے پاکستان کی تزویراتی بصیرت، قومی یکجہتی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کا بھرپور مظاہرہ کیا، جس سے ملک کے استحکام پر قومی اور بین الاقوامی اعتماد مزید مضبوط ہوا اور سرمایہ کاری و پائیدار معاشی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی نے عالمی برادری کے سامنے بھارت کی جارحیت کو بے نقاب کیا، جبکہ پاکستان نے خطے میں امن، ذمہ داری اور تحمل پر مبنی اپنے مؤقف کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔ پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان ایک بار پھر عالمی برادری میں ایک ذمہ دار، بااعتماد اور مؤثر ملک کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے، جو تصادم کے بجائے مذاکرات اور کشیدگی کے بجائے تعاون کو ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات اور تعمیری علاقائی سفارت کاری کے ذریعے پاکستان نے نہ صرف اپنا عالمی وقار مستحکم کیا بلکہ معاشی شراکت داری کے نئے مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔

پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ یہ کامیابیاں پاکستان کے لیے ایک غیر معمولی تزویراتی موقع فراہم کرتی ہیں، تاہم دیرپا ترقی کے لیے مسلسل اصلاحات اور طویل المدتی قومی تبدیلی ناگزیر ہے۔ انہوں نے سنگاپور، جنوبی کوریا، چین، ملائیشیا، ویتنام اور خلیجی ممالک کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی سیاسی استحکام، پالیسیوں کے تسلسل، انسانی وسائل میں سرمایہ کاری، جدت، مضبوط اداروں، میرٹ اور پیداواری صلاحیت میں اضافے سے ہی ممکن ہوتی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اڑان پاکستان محض ایک معاشی پروگرام نہیں بلکہ قومی تعمیرِ نو کا ایک جامع مشن ہے، جس کا مقصد پاکستان کو صرف کھپت پر مبنی معیشت سے پیداوار اور جدت پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنا، کم قدر برآمدات سے زیادہ قدر والی صنعتوں کی جانب لے جانا، بیرونی امداد پر انحصار سے سرمایہ کاری پر مبنی مسابقتی معیشت کی طرف منتقل کرنا، اور قلیل مدتی انتظامی طرزِ فکر کے بجائے طویل المدتی تزویراتی منصوبہ بندی کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ 2035 تک پاکستان کو ایک کھرب ڈالر کی معیشت بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آئندہ ترقی برآمدات، ٹیکنالوجی، جدت، کاروباری سرگرمیوں اور اعلیٰ مہارت رکھنے والی افرادی قوت کی بنیاد پر استوار ہوگی۔ انہوں نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں، جامعات، محققین اور نوجوان پیشہ ور افراد پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی پائیدار اور جامع ترقی کے سفر میں فعال شراکت دار بنیں۔بعد ازاں وفاقی وزیر نےہیوسٹن میں جناح لائبریری میں پاکستانی نژاد امریکی برادری کے ہمراہ قائداعظم محمد علی جناح اور شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی ڈیڑھ سوو ویں یومِ پیدائش کی تقریبات میں شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے 2026 کو سال قائد اعظم قرار دیا ہے* تاکہ بانیانِ پاکستان کی ڈیڑھ سو ویں سالگرہ قومی سطح پر شایانِ شان انداز میں منائی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ موقع نہ صرف ان کی غیر معمولی قیادت کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ہے بلکہ ان کے افکار، نظریات اور قومی اقدار کو نئی نسل تک منتقل کرنے کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیانت، اتحاد، نظم و ضبط، خود انحصاری، آئین کی بالادستی اور قومی تعمیر کے اصول آج بھی پاکستان کی رہنمائی کر رہے ہیں۔وفاقی وزیر نے جناح لائبریری کو قائداعظم محمد علی جناح کے افکار اور قومی ورثے کے تحفظ کے لیے ایک مثالی ادارہ قرار دیتے ہوئے پاکستانی نژاد امریکی برادری کی ان خدمات کو سراہا جو وہ پاکستان کی تاریخ، ثقافت اور قومی شناخت کے فروغ کے لیے انجام دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ علامہ محمد اقبال کا تصورِ خودی آج بھی پاکستانی قوم کو اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے، بلند مقاصد اختیار کرنے اور بہترین کارکردگی کے حصول کی تحریک دیتا ہے، جبکہ قائداعظم محمد علی جناح نے ایمان، اتحاد، نظم و ضبط، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اس خواب کو حقیقت کا روپ دیا۔احسن اقبال نے کہا کہ حکومت اڑان پاکستان کے ذریعے بانیانِ پاکستان کے وژن کو عملی شکل دے رہی ہے۔

یہ قومی اقدام معیاری تعلیم، جدت، جدید ٹیکنالوجی، خلائی علوم اور علم پر مبنی معیشت کے فروغ کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنانے پر مرکوز ہے تاکہ پاکستان کی نوجوان آبادی قومی ترقی اور عالمی مسابقت کی مضبوط قوت بن سکے۔انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کو حقیقی خراجِ عقیدت یہی ہے کہ پاکستان کو ایک ترقی یافتہ، خوشحال، جدید اور مستقبل شناس ریاست بنایا جائے، جیسا خواب انہوں نے دیکھا تھا۔ اس موقع پر قائداعظم اکیڈمی نے قومی خدمات اور قائداعظم کے افکار کے فروغ میں نمایاں کردار کے اعتراف میں وفاقی وزیر احسن اقبال کو اپنا اعلیٰ ترین اعزاز "جناح کیپ” پیش کیا ۔

اپنے دورۂ ہیوسٹن کے دوران وفاقی وزیر نے پاکستانی نژاد امریکی برادری سے ملاقاتوں کے سلسلے میں ابنِ سینا فاؤنڈیشن کے چیئرمین نصرالدین روپانی سے بھی ایک اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں زچہ و بچہ کی صحت، ابتدائی عمر کی نشوونما، جامع اور مساوی طبی سہولیات کی فراہمی، اور بچوں میں غذائی کمی کے باعث نشوونما کے مسائل سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کے امکانات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے انسانی ترقی کے اشاریوں کو بہتر بنانے اور معیاری صحت کی سہولیات تک سب کی مساوی رسائی یقینی بنانے کے لیے مضبوط شراکت داری کی ضرورت پر زور دیا۔

مزید خبریں