اقوام متحدہ میں امن سازی کے لیے ترقی کو اولین ترجیح دی جائے، چین کا مطالبہ

اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب سن لی نے کہا ہے کہ عالمی برادری کو اقوام متحدہ کی امن سازی کی کوششوں میں ترقی کو اولین ترجیح دینی چاہیے اور وسائل کا زیادہ حصہ غربت کے خاتمے، تعلیم، روزگار، صحت اور بنیادی عوامی خدمات جیسے شعبوں کے لیے مختص کرنا چاہیے تاکہ عوام امن کے ثمرات سے مستفید ہوں اور انہیں بہتر مستقبل کی امید مل سکے۔

اقوام متحدہ ۔11جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب سن لی نے کہا ہے کہ عالمی برادری کو اقوام متحدہ کی امن سازی کی کوششوں میں ترقی کو اولین ترجیح دینی چاہیے اور وسائل کا زیادہ حصہ غربت کے خاتمے، تعلیم، روزگار، صحت اور بنیادی عوامی خدمات جیسے شعبوں کے لیے مختص کرنا چاہیے تاکہ عوام امن کے ثمرات سے مستفید ہوں اور انہیں بہتر مستقبل کی امید مل سکے۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں "امن سازی اور پائیدار امن” کے موضوع پر ہونے والے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے سن لی نے کہا کہ اس حکمت عملی سے متاثرہ ممالک میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے مضبوط معاشی اور سماجی بنیادیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اقوام متحدہ کے امن سازی کے نظام نے تنازعات سے متاثرہ ممالک میں امن کی بحالی اور ترقی کے لیے عالمی کوششوں کو مربوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، تاہم امن سازی کا عمل اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ سال 2025 میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد مسلح تنازعات کی سب سے زیادہ تعداد ریکارڈ کی گئی۔سن لی نے کہا کہ اس تناظر میں عالمی برادری کو 2025 کے امن سازی کے نظام کے جائزہ سے متعلق قرارداد کی منظوری کو ایک موقع کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی امن سازی کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر، عملی اور نتیجہ خیز بنانا چاہیے تاکہ وہ متعلقہ ممالک اور ان کے عوام کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کر سکیں۔

انہوں نے زور دیا کہ قومی ملکیت کے بنیادی اصول کا احترام ناگزیر ہے، کیونکہ ہر ملک اپنی امن و ترقی کا بنیادی طور پر خود ذمہ دار ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو "ترقی کے ذریعے امن” کے تصور کو فروغ دینا چاہیے۔چینی مندوب نے کہا کہ بہت سے تنازعات کی جڑیں غربت، ناانصافی اور کمزور طرز حکمرانی میں پیوست ہوتی ہیں، اس لیے ترقی کے بغیر پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں۔سن لی نے اقوام متحدہ کے امن سازی کمیشن پر زور دیا کہ وہ اپنے طریقہ کار اور نظام کو مزید مؤثر بنائے، جبکہ امن سازی کے لیے متنوع اور مؤثر مالیاتی نظام قائم کیا جائے۔

انہوں نے رکن ممالک سے اس مقصد کے لیے مالی تعاون بڑھانے اور فنڈنگ کے مزید ذرائع پیدا کرنے کی بھی اپیل کی۔انہوں نے کہا کہ چین ہمیشہ اقوام متحدہ کی امن سازی کی کوششوں کا مضبوط حامی اور فعال شراکت دار رہا ہے اور تنازعات سے متاثرہ ممالک کی تعمیر نو، بحالی اور ترقی میں مسلسل تعاون کرتا آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین عالمی برادری کے ساتھ مل کر امن سازی کے نظام کے جائزے سے متعلق فیصلوں پر عمل درآمد کو آگے بڑھانے اور بین الاقوامی امن سازی میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

 

مزید خبریں