اسلام آباد ۔ 29 مئی (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ انصاف کے نظام میں پائے جانے والے سقم دور کرنا اور عوام کی آسان، سستے اور فوری انصاف تک رسائی کو یقینی بنانا پاکستان تحریک انصاف کے منشور کا بنیادی جزو ہے، وزیرِ قانون، مشیر برائے پارلیمانی امور اور اٹارنی جنرل پر مشتمل تشکیل کردہ کمیٹی عوام کی توقعات کے مطابق قانونی اصلاحات کے …
موجودہ انصاف کے نظام میں پائے جانے والے سقم دور کرنا اور عوام کی آسان، سستے اور فوری انصاف تک رسائی کو یقینی بنانا پاکستان تحریک انصاف کے منشور کا بنیادی جزو ہے، وزیراعظم عمران خان کا عوا م کو انصاف کی سہل اور فوری فراہمی کے لئے قانونی اصلاحات کے حوالے سے جائزہ اجلاس میں اظہارخیال
اسلام آباد ۔ 29 مئی (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ انصاف کے نظام میں پائے جانے والے سقم دور کرنا اور عوام کی آسان، سستے اور فوری انصاف تک رسائی کو یقینی بنانا پاکستان تحریک انصاف کے منشور کا بنیادی جزو ہے، وزیرِ قانون، مشیر برائے پارلیمانی امور اور اٹارنی جنرل پر مشتمل تشکیل کردہ کمیٹی عوام کی توقعات کے مطابق قانونی اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لئے روڈ میپ مرتب کرے جس کی روشنی میں آئندہ ہفتے مزید فیصلے کیے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں عوا م کو انصاف کی سہل اور فوری فراہمی کے لئے کی جانے والی قانونی اصلاحات کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وزیرِ قانون بیرسٹر فروغ نسیم، وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر ظہیر الدین بابر اعوان، اٹارنی جنرل خالد جاوید خان، پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون ملائیکہ علی بخاری و دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ وزیرِ قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے موجودہ دورِ حکومت میں انصاف کے نظام میں کی جانے والی اہم اصلاحات مثلاً دیوانی مقدمات کی جلد تکمیل، انتقال وراثت، خواتین کو وراثتی جائیدا د میں ان کا حق دلانا، ریاست کی جانب سے کمزور اور نادار طبقات کو قانونی معاونت کی فراہمی اور کریمنل جسٹس سسٹم میں کی جانے والی اصلا حات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ سول پروسیجر میں اصلاحات کے نتیجے میں سالہا سال سے التوا کا شکار رہنے والے مقدمات کی تکمیل کے لئے ایک وقت مقرر کردیا گیا ہے۔ متعلقہ قوانین میں اصلاحاتی عمل اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے جہاں نظام میں بہتری آئے گی وہاں سائلین کو آسان اور فوری انصاف میسر آسکے گا۔ اجلاس میں وفاقی دارالحکومت میں جدید فارنزک لیبارٹری کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ انصاف کے نظام میں پائے جانے والے سقم دور کرنا اور عوام کی آسان، سستے اور فوری انصاف تک رسائی کو یقینی بنانا پاکستان تحریک انصاف کے منشور کا بنیادی جزو ہے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کے موجودہ نظام پر عوام کا اعتماد بہت حد تک متزلزل ہوچکا ہے، انصاف کے نظام میں بہتری کے لئے عوام کی توقعات موجودہ حکومت سے وابستہ ہیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیح معاشرے کے کمزور، بے بس اورلاچار طبقات کی آواز بننا اور ان کو انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ فوجداری مقدمات کے نظام میں اصلاحات (کریمنل جسٹس سسٹم ریفارمز)، تھانہ کلچر میں تبدیلی، مقدمات کے اندراج، تفتیش، جیل خانہ جات میں اصلاحاتی عمل کے حوالے سے بھی روڈ میپ تشکیل دیا جائے تاکہ ان اصلاحات پر جلد از جلد عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیرِ اعظم نے وزیرِ قانون بیرسٹر فروغ نسیم، مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان اور اٹارنی جنرل پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی ہے اور کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ عوام کی توقعات کے مطابق قانونی اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لئے ٹائم لائنز پر مبنی روڈ میپ مرتب کیا جائے جس کی روشنی میں آئندہ ہفتے مزید فیصلے کیے جائیں گے۔









