موجودہ حالات میں عالمی چیلنجز کا مقابلہ کوئی ایک ملک تنہا نہیں کر سکتا، بین الپارلیمانی تعلقات کو مکالمے اور قیامِ امن کے لئے اہم سفارتی ذریعہ کا کردار ادا کر نا ہوگا، علی شاہین

اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):ترکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کے رکن علی شاہین نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں عالمی چیلنجز کا مقابلہ کوئی ایک ملک تنہا نہیں کر سکتا، بین الپارلیمانی تعلقات کو مکالمے اور قیامِ امن کے لئے ایک اہم سفارتی ذریعہ کا کردار ادا کر نا ہوگا۔اسلام آباد میں سینیٹ آف پاکستان کے زیرِ اہتمام بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس (آئی ایس سی) کے اختتامی اجلاس سے …

اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):ترکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کے رکن علی شاہین نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں عالمی چیلنجز کا مقابلہ کوئی ایک ملک تنہا نہیں کر سکتا، بین الپارلیمانی تعلقات کو مکالمے اور قیامِ امن کے لئے ایک اہم سفارتی ذریعہ کا کردار ادا کر نا ہوگا۔اسلام آباد میں سینیٹ آف پاکستان کے زیرِ اہتمام بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس (آئی ایس سی) کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علی شاہین نے کہا کہ پارلیمانوں پر یہ منفرد ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سفارتکاری اور تعاون کے ذریعے اقوام کے درمیان پُل کا کردار ادا کریں۔

انہوں نے کانفرنس کے انعقاد پر پاکستان کی میزبانی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام سٹرٹیجک مسابقت، تنازعات اور ماحولیاتی چیلنجز کے دور میں کثیرالجہتی تعاون کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔علی شاہین نے بتایا کہ ترکیہ دنیا بھر میں ثالثی کے کردار میں فعال ہے اور اقوامِ متحدہ، او ایس سی ای اور او آئی سی کے تحت گروپس آف فرینڈز آف میڈی ایشن کا شریک چیئرمین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ نے کبھی بھی تنازعات اور کشیدگیوں کے خاتمے کی کوششوں سے گریز نہیں کیا، خواہ وہ جنوبی ایشیا ہو، قفقاز ہو یا یوکرین۔انہوں نے غزہ کے لئے انسانی امداد کے تسلسل کا بھی ذکر کیا۔ترک رکنِ پارلیمان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد تنظیموں میں کوئی تفریق نہیں ہونی چاہئے۔

انہوں نے فلسطینی عوام کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی اور غزہ میں انسانی حقوق کے تحفظ اور بلا تعطل امدادی فراہمی کا مطالبہ کیا۔انہوں نے ایران پر اسرائیلی حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام تنازعات کو مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہئے نہ کہ محاذ آرائی کے ذریعے۔ علی شاہین نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان امن کی پیشرفت کو سراہا اور ترک قبرصیوں کے حقوق کی حمایت کا اعادہ کیا۔انہوں نے ترکی کی ماحولیاتی کوششوں بالخصوص “زیرو ویسٹ انیشی ایٹو” کا ذکر کیا جو اقوامِ متحدہ کی منظوری کے بعد عالمی نمونہ بن چکی ہے۔

انہوں نےکہاکہ دنیا کو اب امن و سلامتی کو ماحولیاتی عمل کے ساتھ جوڑنا ہوگا، ہم جو بھی مشترکہ قدم اس سمت میں اٹھائیں گے وہ عالمی امن اور اجتماعی سلامتی کی ضمانت بنے گا۔دوسری جانب اسلامی جمہوریہ ایران کی مجلسِ اسلامی کے نائب سپیکر علی نِکزاد نے فلسطین میں اسرائیلی مظالم اور ایران پر حملوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اصل امن صرف انصاف کے ذریعے ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا ایک ’’نازک موڑ‘‘ پر کھڑی ہے اور صیہونی حکومت بین الاقوامی قانون کی تشریح اپنے مفادات کے مطابق کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امن و سلامتی کوئی تجارتی شے نہیں، اسے دوسروں کے معاملات میں مداخلت سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ علی نِکزاد نے فلسطین میں نسل کشی اور خونریزی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کسی قوم کی سلامتی دوسری قوم کی عدم سلامتی کی قیمت پر قائم نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے زور دیا کہ پارلیمانوں کو انصاف اور امن کے فروغ میں حکومتوں کی رہنمائی کرنی چاہئے، پارلیمان عوام کی آواز ہے، اسے امن اور پائیدار ترقی کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔

جمہوریہ ماریشس کے قومی اسمبلی کے رکن محمد ایشان جُمن نے اپنے خطاب میں امن، سلامتی اور ترقی کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ امن کے بغیر سلامتی نہیں، سلامتی کے بغیر ترقی نہیں اور ترقی کے بغیر امن ممکن نہیں۔انہوں نے کانفرنس کے انعقاد پر پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام کے درمیان اعتماد، مکالمے اور یکجہتی کو مضبوط بنانے میں مددگار ہے۔

ایشان جُمن نے کہا کہ امن صرف تنازعہ کی عدم موجودگی نہیں بلکہ انصاف، مکالمے اور باہمی احترام کی موجودگی ہے۔ انہوں نے ماریشس کی کثیرالثقافتی معاشرت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مختلف زبانوں، مذاہب اور ثقافتوں کا باہمی احترام اس بات کا ثبوت ہے کہ امن سمجھ بوجھ اور رواداری سے شروع ہوتا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ ماحولیاتی تبدیلی چھوٹے جزیرہ ممالک کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے اور عالمی سطح پر اجتماعی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ انسان اور کرۂ ارض دونوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔

انہوں نے کہاکہ حقیقی سلامتی میں انسانی، ماحولیاتی اور اقتصادی پہلو شامل ہونے چاہییں۔انہوں نے زور دیا کہ پارلیمانوں کو اس امر کو یقینی بنانا چاہئے کہ ترقی کا عمل کسی کو پیچھے نہ چھوڑے خاص طور پر کمزور طبقوں کو ۔اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے عالمی پارلیمانی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو انصاف کے ذریعے امن، تعاون کے ذریعے سلامتی، اور پائیداری و شمولیت کے ذریعے ترقی حاصل کرنی چاہئے۔

مزید خبریں