موجودہ صورتحال میں خیبرپختونخوا جلسوں اور احتجاج کا متحمل نہیں ہوسکتا ،گورنر خیبر پختونخوا

موجودہ صورتحال میں خیبرپختونخوا جلسوں اور احتجاج کا متحمل نہیں ہوسکتا ،گورنر خیبر پختونخوا

لاہور۔27اگست (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں خیبرپختونخوا جلسوں اور احتجاج کا متحمل نہیں ہوسکتا، صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان ہے، اگر پی ٹی آئی صوبے میں امن و امان کے مسائل پر بات کرے گی تو ہم اس کا ساتھ دیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو منصورہ میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ قبل ازیں گورنر فیصل کریم کنڈی نے جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم کے انتقال پر حافظ نعیم الرحمن سے تعزیت کی اور مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے دعا کی۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وہ یہاں تعزیت کے لیے آئے تھے، تاہم حافظ نعیم الرحمن سے ملاقات کے دوران خیبرپختونخوا کے مسائل، امن و امان اور دیگر امور پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو امن و امان، بجلی اور دیگر مسائل کا سامنا ہے، صوبے کو درپیش خدشات اور مسائل وفاق کے سامنے دلیل کے ساتھ رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں خیبرپختونخوا جلسوں اور احتجاج کا متحمل نہیں ہوسکتا، صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان ہے اور اس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ امن و امان کے معاملے پر جب بھی بات ہوئی، ہم نے ساتھ دیا اور صوبے کی خوشحالی کے لیے آئندہ بھی ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں۔

اگر پی ٹی آئی صوبے میں امن و امان کے مسائل پر بات کرے گی تو ہم اس کا ساتھ دیں گے۔پمز ہسپتال میں پیش آنے والے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ پمز ایک بڑا ہسپتال ہے جہاں اسلام آباد کے علاوہ دیگر صوبوں سے بھی لوگ علاج کے لیے آتے ہیں۔انہوں نے کہا اس افسوس ناک واقعہ کے ذمہ داران کو سزا دینی چاہیے۔ہری پور میں بچی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے سمیت مختلف معاملات میڈیا اجاگر کرتا ہے، لیکن جب تک ان واقعات میں ملوث ملزمان کو کیفرِ کردار تک نہیں پہنچایا جائے گا، مسائل حل نہیں ہوں گے۔بانی تحریک انصاف کے علاج کے حوالے سے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی تیسری حکومت ہے، لیکن پی ٹی آئی نے بانی تحریک انصاف کے علاج کے لیے خیبرپختونخوا کے کسی ایک ہسپتال کا نام بھی تجویز نہیں کیا بلکہ اسلام آباد کے ایک نجی اسپتال کا نام دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی نجی ہسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے تو یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا یہی سہولت ہر قیدی کو بھی میسر ہوگی۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ملاقات کی اجازت کے فیصلے کو پی ٹی آئی سراہتی ہے، لیکن سزا سے متعلق فیصلے کو درست نہیں مانا جاتا تو پھر اس حوالے سے بھی سوالات اٹھتے ہیں۔اس موقع پر حافظ نعیم الرحمن نے گورنر خیبرپختونخوا کی آمد اور تعزیت پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی رواداری کا تقاضا ہے کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کریں۔