اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی ملائیشیا کا دورہ نہیں کریں گے،بھارتی وزیراعظم مودی کی آسیان سمٹ میں غیرحاضری بھارت کی سفارتی شرمندگی یا سیاسی مجبوری ہے؟تفصیلات کے مطابق بھارت کی موجودہ مودی حکومت کو اس وقت عالمی فورمز پر اعتماد کے بحران کا سامنا ہے۔ معرکہ حق میں بدترین شکست کے بعد سے سفارتی ناکامیاں مودی حکومت کے گلے کا ہار بن چکی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ …
مودی حکومت کو عالمی فورمز پر اعتماد کے بحران کا سامنا ، بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی ملائیشیا کا دورہ نہیں کریں گے

مزید خبریں
اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی ملائیشیا کا دورہ نہیں کریں گے،بھارتی وزیراعظم مودی کی آسیان سمٹ میں غیرحاضری بھارت کی سفارتی شرمندگی یا سیاسی مجبوری ہے؟تفصیلات کے مطابق بھارت کی موجودہ مودی حکومت کو اس وقت عالمی فورمز پر اعتماد کے بحران کا سامنا ہے۔ معرکہ حق میں بدترین شکست کے بعد سے سفارتی ناکامیاں مودی حکومت کے گلے کا ہار بن چکی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی ملائیشیا کا دورہ نہیں کریں گے ۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق مودی ا ب صرف آسیان سمٹ میں آن لائن شرکت کریں گے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں مودی کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ممکنہ ملاقات کے امکانات ختم ہو گئے۔مودی نے اپنی غیرحاضری کی وجہ دیوالی کی تعطیلات کو قرار دیا ہے۔ بھارت اور امریکہ کے تعلقات کو روسی تیل کی درآمدات اور امریکی ٹیکسوں (ٹیرف) میں اضافہ نے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ مودی کی غیر حاضری کی وجہ بین الاقوامی دباؤ، تجارتی تنازعات اور امریکہ کے ساتھ کشیدہ تعلقات ہیں۔مبصرین نے کہا ہے کہ بین الاقوامی رہنماؤں سے ملاقات سے گریز دراصل مودی کے جھوٹ اور پروپیگنڈا کا بے نقاب ہونا ہے۔نام نہاد سب سے بڑی جمہوریت کا وزیراعظم اب ورچوئل پردے کے پیچھے چھپنے پر مجبور ہو چکا ہے۔








