مودی حکومت کی آبادیاتی تبدیلیوں کی ریاستی پالیسی کا شکار کشمیری عوام کے بعد آسام کے قبائل کا احتجاج

اسلام آباد۔25دسمبر (اے پی پی):مودی حکومت کی آبادیاتی تبدیلیوں کی پالیسیوں کے خلاف کشمیر کے بعد آسام کے قبائلی عوام اپنے حقوق کی بقاء کیلئے احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی اخبار 'دی ہندو' کے مطابق آسام کے قبائلی ضلع ''کاربی انگ لونگ'' اور'' کھیرونی'' میں زمین کے تنازعہ پر پرتشدد مظاہرے جاری ہیں۔ مقامی ہندوؤں کے مظاہروں میں کئی ہلاکتیں جبکہ متعددافراد شدید زخمی ہو چکے …

اسلام آباد۔25دسمبر (اے پی پی):مودی حکومت کی آبادیاتی تبدیلیوں کی پالیسیوں کے خلاف کشمیر کے بعد آسام کے قبائلی عوام اپنے حقوق کی بقاء کیلئے احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی اخبار ‘دی ہندو’ کے مطابق آسام کے قبائلی ضلع ”کاربی انگ لونگ” اور” کھیرونی” میں زمین کے تنازعہ پر پرتشدد مظاہرے جاری ہیں۔ مقامی ہندوؤں کے مظاہروں میں کئی ہلاکتیں جبکہ متعددافراد شدید زخمی ہو چکے ہیں۔

کاربی قبائلی عوام کا مؤقف ہے کہ Village Grazing Reserves اور Professional Grazing Reserves وہ سرکاری زمینیں ہیں جو قبائل اور ان کے مویشیوں کے لیے مخصوص تھیں۔ بھارتی اخبار کے مطابق کئی برسوں کے دوران مختلف علاقوں سے آنے والے غیر مقامی اور غیر قبائلی آبادکاروں نے ان زمینوں پر قبضہ جما لیا۔ مقامی قبائل کے معاشی وسائل، ثقافتی تشخص اور آبادیاتی توازن کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

دی ہندو کے مطابق قبائلی عوام کا مطالبہ ہے کہ زرعی اور کاروباری زمینوں سے غیر مقامی افراد کو نکالاجائے۔ مودی حکومت کی جانب سے آسام میں شدید ہنگاموں کے پیش نظر انٹرنیٹ پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ یہ علاقہ بھارتی آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت کاربی انگلانگ خودمختار کونسل (KAAC) کے زیرِ انتظام ہے۔ کونسل کے بے دخلی نوٹسز کو غیر قبائلی آبادکاروں نے عدالت میں چیلنج کر کے عملدرآمدی روک دی ہے۔

ماہرین کے مطابق آسام کے قبائلی اضلاع کاربی انگلانگ اور ویسٹ کاربی انگلانگ میں حالیہ تشدد کے واقعات وقتی ردعمل نہیں، بحران مودی حکومت کی طویل عرصے سے آبادیاتی تبدیلی (Demographic Engineering) کی پالیسی سے جڑا ہے۔ ماہرین کے مطابق آبادیاتی تبدیلی کی پالیسی کا عملی مظاہرہ اس سے قبل مقبوضہ جموں و کشمیر میں دیکھا جا چکا ہے، تجزیہ کار آسام کی صورتحال کا موازنہ کشمیر میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد ہونے والی آبادیاتی تبدیلیوں سے کر رہے ہیں۔

کشمیر میں خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل حقوق، زمین کی خرید و فروخت اور سرکاری ملازمتوں تک رسائی دی گئی۔ یہ حکمت عملی مودی حکومت کے کشمیر میں مسلم اکثریتی علاقوں کی آبادیاتی ساخت بدلنے کی سازش تھی۔

سیاسی ماہرین کے مطابق مودی حکومت کی مرکزی سطح پر داخلی پالیسی مسلم، قبائلی اور دیگر کمزور طبقات کے علاقوں میں آبادیاتی توازن بدلنے کی کوشش ہے۔ شمال مشرقی بھارت، کشمیر کے بعد آسام اور دیگر قبائلی علاقوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔