اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):مودی راج میں مسلم مخالف اقدامات شدت اختیار کرگئے، مسلمان توہین اور ذلت آمیز رویے کا شکار ہیں۔تفصیلات کے مطابق مودی کے ہندوتوا نظریے نے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کا جینا محال کردیاہے،مودی راج میں مسلمان گوشت خریدیں یا سانس لیں، دونوں جرم بن گئے ہیں۔ آر ایس ایس کی سرپرستی میں مسلمانوں کے خلاف مہم تیز ہو گئی ۔ بھارتی ریاست اتر پردیش میں مسلم گوشت …
مودی راج میں مسلم مخالف اقدامات شدت اختیار کرگئے

مزید خبریں
اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):مودی راج میں مسلم مخالف اقدامات شدت اختیار کرگئے، مسلمان توہین اور ذلت آمیز رویے کا شکار ہیں۔تفصیلات کے مطابق مودی کے ہندوتوا نظریے نے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کا جینا محال کردیاہے،مودی راج میں مسلمان گوشت خریدیں یا سانس لیں، دونوں جرم بن گئے ہیں۔ آر ایس ایس کی سرپرستی میں مسلمانوں کے خلاف مہم تیز ہو گئی ۔ بھارتی ریاست اتر پردیش میں مسلم گوشت فروش ہراساں، قبرستان اور مساجد کی بے حرمتی شدت اختیار کر گئی۔بھارتی اخبار دی وائر کی رپورٹ کے مطابق،متھرا میں مسلم مخالف رویے شدت اختیار کر گئے، مسلمانوں کو روزمرہ کے معمولات میں بھی خطرات کا سامناہے۔ستمبر 2021 میں متھرا کو مقدس قرار دیے جانے کے بعد سے مسلم اکثریتی علاقوں میں گوشت کی دکانیں اور ہوٹل بند، مقامی روزگار متاثر ہوئے ہیں۔
پولیس کو گائے کے تحفظ کے قوانین کے تحت وسیع اختیارات ملنے سے جھوٹے الزامات اور ناحق گرفتاریوں کے واقعات بڑھ گئے۔دی وائرکے مطابق مسلم کمیونٹی گوشت کھانے سے خوفزدہ ،گرفتاری اور الزامات کے ڈر نے محتاط رہنے پر مجبور کر دیا،متھرا میں مسلم مخالف نفرت انگیز بیانات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے،ہندو سیاسی رہنما مسلمانوں کو دیمک کہہ کر پکارتے ہیں،شدت پسندوں کے حملوں سے بچنے کے لیے مسلمان نوجوان ہندو علامتی زعفرانی کپڑے پہننے پر مجبورہیں۔
دی وائرکے مطابق متھرا میں مسلمانوں کےقبرستانوں کے پاس کچرے کے ڈھیر لگائےجبکہ مساجد کے قریب بیت الخلا تعمیر کیے جارہے ہیں، مساجد پر قبضوں کی قانونی درخواستیں، آذان پر پابندی اور گھروں کی مسماری آر ایس ایس کے ہندوتوا ایجنڈے کا حصہ ہیں،مساجد پر قبضے، قبرستانوں کی بے حرمتی،گوشت کھانے پر پابندیاں اور خوف کے پھیلتے ہوئے سائے سب مودی کی ہندوتوا سوچ کا نتیجہ ہے۔








