اسلام آباد ۔ 5 اگست (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے خلاف بھارت کے غیر قانونی اقدامات اور ظلم و جبر کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کے فوجی محاصرہ سے کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو سلب نہیں کیا جا سکتا، کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچہ کی تبدیلی کیلئے بھارت کی …
مودی سرکار کے توسیع پسندانہ اور منافرت پر مبنی اقدامات نے پورے خطہ کے امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے قومی اسمبلی کے سپیکر و ڈپٹی سپیکر کے یوم استحصال کے موقع پر پیغامات

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 5 اگست (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے خلاف بھارت کے غیر قانونی اقدامات اور ظلم و جبر کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کے فوجی محاصرہ سے کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو سلب نہیں کیا جا سکتا، کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچہ کی تبدیلی کیلئے بھارت کی جانب سے اٹھائے گئے غیر قانونی اقدامات دنیا کی فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ بدھ کو یوم استحصال کے موقع پر اپنے الگ الگ پیغامات میں انہوں نے کہا کہ بھارت فوجی محاصرے کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی تحریک آزادی کو دبانے میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں فوجی محاصرے اور غیر قانونی اقدامات قابل انتہائی شرمناک اور قابل مذمت ہیں، بھارتی حکومت خصوصاً مودی سرکار کے استحصالی اور توسیع پسندانہ عزائم دنیا میں بے نقاب ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں کشمیر کے مسئلہ پر متفق ہیں، ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اور پارلیمنٹ بھارت کے 5 اگست کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدام کی پر زور مذمت کرتی ہیں۔ اسد قیصر نے کہا کہ بھارتی حکومت بھارتی آئین سے آرٹیکل 35۔A اور 370 کے خاتمہ کے غیر قانونی اقدام کے باجود کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے میں ناکام رہا ہے، کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم نے بھارت کی انتہا پسند حکومت کے اصل ایجنڈے کو بے نقاب کر دیا ہے، مودی سرکار کے توسیع پسندانہ اور منافرت پر مبنی اقدامات نے پورے خطہ کے امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ہونے تک کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھے گا، پاکستانی حکومت اور پارلیمنٹ تمام علاقائی اور بین الاقوامی فورم پر کشمیر عوام پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئین سے آرٹیکلز 35۔A اور 370 کا خاتمہ غیر قانونی ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کا غیر قانونی اقدام پوری دنیا کی توجہ کا متقاضی ہے کیونکہ اس اقدام سے نہ صرف مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت کو تبدیل کیا گیا ہے بلکہ یہ کشمیریوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی مذموم سازش ہے، متنازعہ علاقہ کی حیثیت سے کشمیری حیثیت بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے، بھارت کی حکومت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق کا غیر قانونی قدم اٹھایا ہے۔ ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر ایک نیوکلیئر فلیش پوائنٹ ہے، مودی سرکار کی جانب سے آرٹیکلز 35۔A اور 370 کا خاتمہ کشمیری عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے، آئی آئی او جے کے میں ڈومیسائل کا نیا قانون کشمیری عوام کا استحصال کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارت افواج کے ذریعے ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کا سختی سے نوٹس لے، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمہ اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لئے اپنا کلیدی کردار ادا کرے۔








