مودی پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنا چاہتے تھے، خود ہی تنہا ہو گئے ، بھارتی تجزیہ کاروں کا جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کا اعتراف

بھارتی تجزیہ کاروں کی طرف سے بھی اسرائیل امریکا اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی پر پاکستان کے کردار کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ بی بی سی کے مطابق بین الاقوامی امور کے بھارتی ماہر ہرش پنت نے کہا کہ یہ ضرور ہے کہ پاکستان نے دو ممالک کے درمیان پیغامات کے تبادلے کے ذریعے ثالثی کی کوشش کی، جس سے جنگ بندی ممکن ہوئی۔

نئی دہلی ۔10اپریل (اے پی پی):بھارتی تجزیہ کاروں کی طرف سے بھی اسرائیل امریکا اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی پر پاکستان کے کردار کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ بی بی سی کے مطابق بین الاقوامی امور کے بھارتی ماہر ہرش پنت نے کہا کہ یہ ضرور ہے کہ پاکستان نے دو ممالک کے درمیان پیغامات کے تبادلے کے ذریعے ثالثی کی کوشش کی، جس سے جنگ بندی ممکن ہوئی۔سابق سیکرٹر ی خارجہ نیروپما مینن راؤ نے ’ایکس‘ پر ایک طویل پوسٹ میں لکھا کہ پاکستان کا کردار ثالث کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسے ذریعے کے طور پر اُبھرا ہے جس کے ذریعے پیغامات پہنچائے گئے اور ایک چھوٹا سفارتی چینل کھولا گیا۔ تاحال یہ روایتی معنوں میں ثالثی نہیں ہے، لیکن اس کی اہمیت کو کم نہیں سمجھا جا سکتا۔

نیروپما راؤ نے مزید کہا کہ بھارت کو اپنا موقف واضح کرنا چاہیے اور اسے جنگ بندی کی حمایت کرنی چاہیے۔ اسے سمندری راستوں کی حفاظت کے لیے کام کرنا چاہیے اور اس جنگ میں کسی ایک فریق کی بالادستی کو روکنا چاہیے۔یہ خاموش رہنے کا وقت نہیں ہے، یہ سمجھداری اور عقل مندی سے بات کرنے کا وقت ہے ۔انھوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کو نہ صرف امریکا اور ایران بلکہ چین کا بھی اعتماد حاصل ہے۔ مودی پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنا چاہتے تھے، لیکن خود ہی تنہا ہو گئے ہیں۔ کانگریس رہنما ششی تھرور نے کہا کہ جب پاکستانی کسی ایسے مسئلے پر کام کر رہے ہیں، جو قیام امن کے لیے ہو جس کے ہم بھی خواہاں ہیں، تو میرا خیال ہے کہ ہمیں درحقیقت خوشی منانی چاہیے۔ ہمیں ان پیش رفتوں کو سٹریٹجک ضبط، علاقائی ذمہ داری کے احساس اور ایک نئے عزم کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔

اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ پاکستان کا اس عمل میں شامل ہونا خود اسلام آباد کے لیے ایک خاص اہمیت رکھتا ہے، اور اس کردار کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم سب نےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کی عسکری قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان خصوصی تعلقات کو دیکھا ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ کئی مواقع پر روایتی سفارتی چینلز کو نظرانداز کر کے براہِ راست رابطے قائم کیے گئے۔ ایران کے ساتھ طویل مشترک سرحد اور ایک بڑی شیعہ آبادی کے پس منظر میں یہ بات قابلِ فہم ہے کہ پاکستان اس معاملے میں جنگ بندی کی کوششوں میں خاص دلچسپی رکھتا ہے۔ پاکستان کے پاس کچھ ایسی منفرد صلاحیتیں اور جغرافیائی فوائد ہیں جو کسی اور کے پاس نہیں۔ انھیں اس دائرے میں کام کرنے دیا جانا چاہیے۔ ہمیں اس سارے عمل کو ایک دلچسپی رکھنے والے پڑوسی کی حیثیت سے دیکھنا چاہیے، نہ کہ تنقید کرنے والے یا رنجیدہ ملک کی طور پر۔

ہمیں کسی امن عمل کی ناکامی کی خواہش رکھنے میں کوئی فائدہ نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اصل مقصد علاقائی سلامتی ہے۔ اگر ایران جنگ کی صورتحال میں کشیدگی کم ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں توانائی کی منڈی مستحکم ہو گی اور انڈین مفادات کا تحفظ ممکن ہو گا۔ پھر ہمیں اس پر اعتراض یا تنقید کی آخر کیا ضرورت ہے؟

واضح رہے کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی امریکی، اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد بھی بھارتی حکومت نے ابتدا میں خاموشی اختیار کی اور کچھ دنوں انتظار کے بعد بھارتی وزارت خارجہ کے ایک نمائندے نے نئی دہلی میں واقع ایرانی سفارتخانے جا کر افسوس نامے پر اپنے تاثرات تحریر کیے۔انڈیا اس معاملے پر شروع سے اپنے رسمی بیانات میں یہ ضرور کہتا رہا ہے کہ جنگ رکنی چاہیے، لیکن اس سے زیادہ اس جنگ میں اس نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔

 

مزید خبریں