موسمیاتی تبدیلی کا ذکر عموماً زرعی پیداوار میں کمی، پانی کی قلت، شدید گرمی، سیلاب اور خشک سالی کے تناظر میں کیا جاتا ہے تاہم اس کے روایتی دستکاری اور ہنرمندی پر پڑنے والے منفی اثرات پر کم توجہ دی گئی ہے۔ جنوبی پنجاب میں صدیوں سے نسل در نسل منتقل ہونے والے روایتی ہنر اب موسمیاتی تبدیلی کے باعث خاموشی سے زوال کا شکار ہو رہے ہیں ۔
موسمیاتی تبدیلی جنوبی پنجاب کے صدیوں پرانے روایتی دستکاری کے فن کے لیے خاموش خطرہ بن گئی

مزید خبریں
ملتان۔ 19 جولائی (اے پی پی):موسمیاتی تبدیلی کا ذکر عموماً زرعی پیداوار میں کمی، پانی کی قلت، شدید گرمی، سیلاب اور خشک سالی کے تناظر میں کیا جاتا ہے تاہم اس کے روایتی دستکاری اور ہنرمندی پر پڑنے والے منفی اثرات پر کم توجہ دی گئی ہے۔ جنوبی پنجاب میں صدیوں سے نسل در نسل منتقل ہونے والے روایتی ہنر اب موسمیاتی تبدیلی کے باعث خاموشی سے زوال کا شکار ہو رہے ہیں ۔غیر متوقع موسمی حالات، شدید گرمی، طویل خشک سالی اور تباہ کن سیلاب نہ صرف روایتی دستکاری کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ ان سے وابستہ دیہی روزگار اور ثقافتی ورثہ بھی خطرات سے دوچار ہے۔ملتان کی مٹی کے برتن سازی، مظفرگڑھ کی کھجور کے پتوں سے تیار کی جانے والی دستکاری، نہری علاقوں کی سرکنڈے کی چٹائیاں، دیہی بڑھئیوں کا لکڑی کا فرنیچر اور خواتین کی روایتی رضائیاں موسمیاتی تبدیلی کے باعث خام مال کی قلت اور پیداواری مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔
کمہار غلام حسین اور امام بخش نے بتایا کہ غیر معمولی گرمی کے باعث مٹی برتن کی شکل مکمل ہونے سے پہلے ہی خشک ہو جاتی ہے، جس سے برتنوں میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں اور پیداوار کا بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مون سون کے دوران نمی میں اچانک تبدیلی بھٹی میں برتن پکانے کے عمل کو بھی متاثر کرتی ہے، جس سے ایندھن کی کھپت بڑھنے کے ساتھ نقصان میں اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل اب اس پیشے میں دلچسپی نہیں رکھتی اور زیادہ تر نوجوان روزگار کی تلاش میں مشرق وسطیٰ کے ممالک کا رخ کر رہے ہیں، حالانکہ ان کا گاؤں کئی دہائیوں تک مٹی کے برتن بنانے کے لیے مشہور رہا ہے۔اسی طرح نواب پور گاؤں کے دستکار بشیر اور اکرم، جو سرکنڈے اور جنگلی گھاس سے ٹوکریاں، چٹائیاں اور گھریلو اشیاء تیار کرتے ہیں، نے بتایا کہ نہری کناروں اور دلدلی علاقوں میں پہلے جیسا خام مال دستیاب نہیں رہا۔
ان کے مطابق پانی کی کمی اور طویل خشک سالی نے ان پودوں کی افزائش کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث انہیں مہنگا متبادل خام مال خریدنا پڑ رہا ہے یا پیشہ ترک کرنا پڑ رہا ہے۔بستی نوآباد کی ثمینہ، شمیم بی بی اور دیگر خواتین، جو کھجور کے پتوں سے پنکھے، ٹوکریاں اور آرائشی اشیاء تیار کرتی ہیں، نے بتایا کہ مظفرگڑھ، راجن پور، ڈیرہ غازی خان، لیہ اور ملحقہ علاقوں میں کھجور کے درخت شدید گرمی، کیڑوں کے حملوں اور پانی کی قلت سے متاثر ہو رہے ہیں، جس کے باعث معیاری پتے دستیاب نہیں رہے۔ ملتان کے گاؤں سید والی کھوئی کے بڑھئی سہیل بھٹہ اور محمد حسین پٹھان نے بتایا کہ شدید گرمی اور نمی میں اتار چڑھاؤ کے باعث لکڑی کا قدرتی توازن متاثر ہوتا ہے، جس سے لکڑی سکڑتی، پھیلتی اور پھٹ جاتی ہے۔ ان کے مطابق شیشم اور کیکر سمیت کئی مقامی درخت بھی موسمیاتی تبدیلی کے باعث بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں، جس سے معیاری لکڑی کی دستیابی کم ہو رہی ہے اور فرنیچر کی تیاری کی لاگت بڑھ رہی ہے۔
ماہر ماحولیات اور پی ایچ ڈی اسکالر ملک عدنان نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں حیاتیاتی تنوع میں کمی نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق وہ مقامی درخت اور پودے، جو لکڑی، قدرتی رنگ اور دیگر خام مال فراہم کرتے تھے، اب تیزی سے کم ہوتے جا رہے ہیں، جس سے ان سے وابستہ روایتی ہنر بھی متاثر ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی دستکاروں پر دوہرا دباؤ ڈال رہی ہے۔ ایک جانب خام مال کی قلت اور قدرتی آفات کے باعث پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے جبکہ دوسری جانب معاشی مشکلات کے باعث ہاتھ سے تیار کی جانے والی اشیاء کی طلب بھی کم ہو رہی ہے، جس سے ان کی آمدنی مزید محدود ہو گئی ہے۔اگرچہ متعدد دستکار بدلتے حالات سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، جن میں مٹی کی بہتر تیاری، بارش کے پانی کا ذخیرہ، خام مال کو محفوظ رکھنے کے جدید طریقے اور مقامی درختوں کی شجرکاری شامل ہیں تاہم انفرادی اقدامات اس مسئلے کے حل کے لیے کافی نہیں۔
ینگ پاکستانیز آرگنائزیشن کے چیئرمین نعیم اقبال نعیم نے کہا کہ روایتی دستکاری کے تحفظ کو ملک کی موسمیاتی موافقت کی حکمت عملی کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے دستکاروں کے لیے مالی معاونت، دلدلی علاقوں کی بحالی، مقامی درختوں کی شجرکاری، فنی تربیت، بہتر مارکیٹ تک رسائی اور قدرتی وسائل کے پائیدار انتظام کو ناگزیر قرار دیا ۔ماہرین کے مطابق جنوبی پنجاب کی روایتی دستکاری صرف معاشی سرگرمی نہیں بلکہ مقامی تاریخ، ثقافت، شناخت، تخلیقی صلاحیت اور نسل در نسل منتقل ہونے والے ہنر کی علامت ہے۔ اس لیے موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے ان ہنرمندوں کا تحفظ نہ صرف ماحولیاتی ضرورت بلکہ قومی ثقافتی ورثے اور دیہی معیشت کے تحفظ میں بھی اہم سرمایہ کاری ہے۔







