پنجاب حکومت گوشت اور ڈیری ویلیو چین کو مضبوط بنانے کے لیے 149 ارب 90 کروڑ روپے کے سرکاری و نجی سرمایہ کاری پروگرام پر عمل درآمد کا منصوبہ بنا رہی ہے جس کا مقصد پاکستان کی لائیوسٹاک برآمدات کو 4 ارب ڈالر سے بڑھانا ہے۔
پنجاب کا لائیو سٹاک برآمدات 4 ارب ڈالر سے بڑھانے کا منصوبہ، 149.9 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی

مزید خبریں
لاہور۔20جولائی (اے پی پی):پنجاب حکومت گوشت اور ڈیری ویلیو چین کو مضبوط بنانے کے لیے 149 ارب 90 کروڑ روپے کے سرکاری و نجی سرمایہ کاری پروگرام پر عمل درآمد کا منصوبہ بنا رہی ہے جس کا مقصد پاکستان کی لائیوسٹاک برآمدات کو 4 ارب ڈالر سے بڑھانا ہے۔
ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق پنجاب کا لائیو سٹاک شعبہ برآمدات بڑھانے کی بڑی مگر تاحال غیر استعمال شدہ صلاحیت رکھتا ہے، اس وقت پاکستان کی گوشت کی برآمدات 51 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ہیں جو عالمی گوشت کی تجارت کا صرف 0.3 فیصد بنتی ہیں۔مجوزہ منصوبے کے تحت جدید سلاٹر ہاؤسز، فیڈ لاٹس، گوشت کی پراسیسنگ و پیکنگ سہولتوں، سرٹیفکیشن نظام، بیماریوں پر قابو پانے کے اقدامات اور تحقیق و ترقی پر مشتمل ایک مربوط گوشت ویلیو چین قائم کی جائے گی۔دستاویزات کے مطابق لائیو سٹاک ویلیو چین کے لیے مجموعی طور پر 149 ارب 90 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے جس میں حکومت کی مالی معاونت اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری شامل ہو گی۔مجوزہ گوشت ویلیو چین میں فارم پر موجود زندہ جانوروں سے لے کر ذبح شدہ گوشت، ٹھنڈا اور منجمد گوشت، خوردنی آلائشیں، پراسیسڈ گوشت، ضمنی مصنوعات، جیلاٹن اور کولیجن کی صنعت تک پورا پیداواری عمل شامل ہوگا۔اس وقت پاکستان کی گوشت برآمدات کا 38.4 فیصد متحدہ عرب امارات، 29.1 فیصد سعودی عرب، 9.4 فیصد کویت اور 6.3 فیصد قطر کو جبکہ باقی 26.8 فیصد دیگر ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے ۔
دستاویزات کے مطابق اس منصوبے سے دودھ اور گوشت کی پیداوار میں 25 فیصد اضافہ متوقع ہے جبکہ گوشت اور ڈیری کے شعبوں میں الگ الگ 15 ہزار سے زائد نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔منصوبے کے تحت گوشت کی برآمدات میں 200 فیصد اضافہ، ذبح کے بعد ہونے والے نقصانات میں 12 فیصد کمی اور دودھ و گوشت کی درآمدات میں سالانہ 4 کروڑ ڈالر کی کمی متوقع ہے۔گوشت ویلیو چین کے تحت مجوزہ سرمایہ کاری میں فی یونٹ 2 ارب 70 کروڑ روپے کے گوشت پراسیسنگ پلانٹس، فی یونٹ 2 ارب 10 کروڑ روپے کے جدید سلاٹر ہاؤسز اور آلائشوں کی پراسیسنگ پلانٹس، 75 کروڑ روپے فی یونٹ لاگت کے کمرشل فیڈ لاٹس، 4 ارب روپے فی یونٹ لاگت کے کارپوریٹ فیڈ لاٹس اور 4 ارب روپے فی یونٹ لاگت کے مربوط گوشت پیکنگ ہاؤسز شامل ہیں۔
بین الاقوامی معیار کے مطابق سرٹیفکیشن اور ضابطہ جاتی تقاضوں کو بہتر بنانے کے لیے نجی شعبہ گوشت ویلیو چین میں 65 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرے گا جبکہ حکومت 19 ارب 10 کروڑ روپے کی مالی سبسڈی فراہم کرے گی۔مجوزہ پروگرام کے تحت حکومت ڈیری ویلیو چین کو بھی مضبوط بنائے گی جس کے لیے پراسیسنگ سہولتوں، دودھ جمع کرنے کے مراکز، کولڈ چین لاجسٹکس، لائیوسٹاک فنانسنگ، کسانوں کی تربیت، بیماریوں پر قابو پانے اور سپلائی چین کے نظام میں سرمایہ کاری کی جائے گی۔حکومت ڈیری ویلیو چین میں 1 ارب 50 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرے گی۔ اس وقت پاکستان کی دودھ برآمدات صرف 2 کروڑ 62 لاکھ ڈالر ہیں جو عالمی ڈیری مارکیٹ کا محض 0.0001 فیصد بنتی ہیں۔دستاویزات کے مطابق پنجاب میں تقریباً 5 کروڑ 70 لاکھ مویشی اور بھینسیں موجود ہونے کے باوجود ڈیری برآمدات انتہائی کم ہیں جبکہ دودھ کی برداشت کے بعد ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 20 فیصد ہے۔مجوزہ ڈیری ویلیو چین میں خام دودھ کی خریداری، ابتدائی اور دیہی ڈیری مصنوعات، چکنائی پر مبنی مصنوعات، خمیر شدہ ڈیری مصنوعات، پنیر، دیگر ڈیری غذائیں، ڈیری اجزا، نیوٹراسیوٹیکلز، فنکشنل ڈیری مصنوعات اور برآمدات پر مبنی ڈیری پیداوار شامل ہوگی۔
دستاویزات کے مطابق منصوبے کے تحت فی یونٹ 3 کروڑ روپے لاگت کے دودھ پاسچرائزیشن اور پیکنگ پلانٹس، 8 کروڑ 30 لاکھ روپے کے مکھن اور گھی پراسیسنگ یونٹس، 15 کروڑ روپے کے آئس کریم پراسیسنگ پلانٹس اور 30 کروڑ روپے کے دودھ پاؤڈر پراسیسنگ پلانٹس قائم کیے جائیں گے۔فارم کی سطح پر 13 ٹن گنجائش والی ٹوٹل مکسڈ ریشن ویگنز فی یونٹ ایک کروڑ روپے جبکہ 10 جانوروں کی گنجائش والے ملکنگ پارلرز فی یونٹ ڈھائی کروڑ روپے کی لاگت سے نصب کیے جائیں گے۔ڈیری ویلیو چین میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کا تخمینہ 5 ارب روپے ہے جبکہ حکومت اس کے لیے 1 ارب 50 کروڑ روپے کی مالی سبسڈی فراہم کرے گی۔مجموعی طور پر حکومت لائیو سٹاک ویلیو چین پر 59 ارب روپے خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جن میں 29 ارب روپے گوشت کے شعبے اور 30 ارب روپے ڈیری شعبے کی ترقی کے لیے مختص ہوں گے۔اہم اقدامات میں پنجاب لائیو سٹاک کارڈ، میٹ فری زون کا قیام، سپلائی چین کی بہتری، لائیو سٹاک فارمرز کی تربیت اور ہیٹ ٹرانسفارمیشن پروگرامز شامل ہیں جن کا مقصد پیداوار بڑھانا، برآمدات میں اضافہ کرنا اور درآمدات پر انحصار کم کرنا ہے۔








