موسمیاتی تبدیلی عالمی مسئلہ ، اس سے وہ ممالک متاثر ہیں جو اس کے ذمہ دار بھی نہیں، دنیا سے اپنا حق لے کر رہیں گے،ڈاکٹر مصدق ملک

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی عالمی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں،اس تبدیلی سے زیادہ متاثر ممالک وہ ہیں جو اس کے ذمہ دار بھی نہیں، ہم موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اپنا مقدمہ عالمی سطح پر لے کر گئے ہیں اور اپنا حق لے کر رہیں گے،موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے …

اسلام آباد۔28جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی عالمی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں،اس تبدیلی سے زیادہ متاثر ممالک وہ ہیں جو اس کے ذمہ دار بھی نہیں، ہم موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اپنا مقدمہ عالمی سطح پر لے کر گئے ہیں اور اپنا حق لے کر رہیں گے،موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،مشکل وقت کے لیے پانی کا ذخیرہ ضروری ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)کے دورے کے موقع پروفاقی وزرا کے ہمراہ نیوز بریفنگ سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں گرین ہاؤس گیسوں کے بڑے اخراج کرنے والے ممالک میں شامل نہیں، تاہم موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات سب سے زیادہ پاکستان جیسے ممالک بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے تین ممالک 57 فیصد جبکہ دس ممالک 70 فیصد گرین ہاؤس گیسیں پیدا کر رہے ہیں جن کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ، گلیشیئرز کے بے وقت پگھلنے، سیلاب اور وسیع پیمانے پر تباہی جیسے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ ا ن کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند سیلابوں میں6 ہزار افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، 20 ہزار افراد زخمی ہوئے جبکہ چار کروڑ افراد بے گھر ہوئے جو یورپ کے بیشتر ممالک کی آبادی سے بھی زیادہ تعداد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی انصاف کے حصول کے لیے اپنا مقدمہ بین الاقوامی سطح پر بھرپور انداز میں پیش کر رہا ہے اور اپنا حق لے کر رہیں گے۔

وفاقی وزیر نےکہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمتِ عملی اختیار کی ہے جس کے تحت فوڈ سکیورٹی، فنانسنگ، پلاننگ، انفارمیشن اور پانی سمیت تمام متعلقہ شعبوں کو یکجا کر دیا گیا ہے تاکہ تمام فیصلے مربوط انداز میں کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ایک ٹیم کے طور پر کام کر رہی ہے اور تمام متعلقہ وزرا مشترکہ ذمہ داری کے تحت عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ انتظامی انضمام کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کےاستعمال کا عمل بھی شروع ہو چکا ہےجس کے تحت آرٹیفیشل انٹیلیجنس، ڈیٹا سائنس، ڈرونز، سیٹلائٹس اور پانی سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو یکجا کرکے مؤثر فیصلہ سازی کو یقینی بنایا جا رہا ہےجس سے عوام کو بہترسہولتیں فراہم کی جا سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ موسمی صورتحال کے پیش نظر شمالی علاقوں خصوصاً گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں زیادہ بارشوں جبکہ جنوبی اور میدانی علاقوں میں کم بارشوں کے امکانات ہیں جس کے باعث ایک جانب سیلاب اور دوسری جانب خشک سالی اور شدیدگرمی جیسے چیلنجز کا سامنا ہوگا، انہی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے شمالی، میدانی، شہری اور زرعی علاقوں کے لیے الگ الگ، جامع اور فوکسڈ حکمتِ عملیاں تیار کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہروں میں شدید گرمی اور ہیٹ آئی لینڈ جیسے اثرات سے نمٹنے کے لیے بھی صوبوں کے تعاون سے خصوصی حکمتِ عملی تیار کی جا رہی ہے جبکہ غذائی تحفظ کے حوالے سے میدانی علاقوں کے لیے بھی الگ منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پانی کے مؤثر انتظام اور غذائی تحفظ کے لیے ڈیموں میں پانی ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی بروقت ریگولیشن بھی ناگزیر ہے تاکہ ربیع اور خریف کی فصلوں کے دوران ضرورت کے مطابق پانی دستیاب ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ پانی کی ریگولیشن، ٹیلی میٹری نظام اور ذخیرہ آب سے متعلق مسائل کےحل کے لیے حکومت پُرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زوننگ اورتعمیرات کی مؤثر ریگولیشن بھی ناگزیر ہے تاکہ قدرتی آفات کے دوران جانی و مالی نقصانات کو کم کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد یہ بنیادی طور پر صوبائی ذمہ داری ہے تاہم وفاق ہر ممکن تکنیکی معاونت اور سہولت فراہم کرے گا۔ڈاکٹر مصدق ملک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وفاقی حکومت صوبوں کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے موسمیاتی آفات سے نمٹنے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، پانی کے مؤثر انتظام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے گی۔

مزید خبریں