مون سون کے دوران اور بارشوں کے بعد آلودہ پانی ، غیر صحت مند خوراک ، جوہڑوں کی شکل میں پانی کھڑا ہونے اور صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات سے مختلف طبی امراض جنم لیتے ہیں جن میں ڈائیریا، گیسٹرو، کالرہ، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس، ملیریا اور ڈینگی کی بیماریاں عام ہوتی ہیں
مون سون کے دوران صفائی کے ناقص انتظامات سے ڈائیریا، گیسٹرو، کالرہ، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس، ملیریا اور ڈینگی کی بیماریاں عام ہو جاتی ہیں، طبی ماہرین

مزید خبریں
اسلام آباد۔30اگست (اے پی پی):مون سون کے دوران اور بارشوں کے بعد آلودہ پانی ، غیر صحت مند خوراک ، جوہڑوں کی شکل میں پانی کھڑا ہونے اور صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات سے مختلف طبی امراض جنم لیتے ہیں جن میں ڈائیریا، گیسٹرو، کالرہ، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس، ملیریا اور ڈینگی کی بیماریاں عام ہوتی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق بارشوں کے موسم میں اور مون سون کے بعد ملک میں طبی مسائل میں اضافہ ہو جاتا ہے اور تقریباً ہر سال دیہی علاقوں اور بڑے شہروں کی مضافاتی آبادیوں کے رہائشیوں کو مختلف طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں عام ہوتی ہیں۔ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس طرح انفیکشن کے پھیلائو سے بچا جا سکتا ہے۔ مون سون کے دوران عام طور پر ہیضہ، گیسٹرو، کالرہ اور معدے کے دیگر امراض سمیت ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس، ملیریا اور ڈینگی وغیرہ کے کیسز میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے جس کی بڑی وجہ گھروں کے اندر اور اردگرد بارش کے پانی کا جوہڑ کی شکل میں رک جانا ہے۔ مون سون کے موسم کے بعد اکثر بیماریوں کا بنیادی سبب آلودہ پانی، غیر صحت مند خوراک اور صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات ہیں۔ اس طرح کے انفیکشنز سے سادہ حفاظتی اقدامات سے تحفظ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ مون سون کے دوران اور بعد میں معدے کے امراض سے بچنے کےلئے مناسب مقدار میں پانی کا استعمال کرنا چاہئے اور اگر ممکن ہو تو لیموں پانی پینا چاہئے۔ ہر طرح کے پانی کو محفوظ بنانا بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور اس حوالے سے پانی کا ابال کر یا کلورین کی گولیاں اور بلیچنگ پائوڈر کے استعمال سے صاف کیا جاسکتا ہے۔ پانی صاف کرنے کے لیےکلورین کی گولیوں کو استعمال کرنا ہو تو آدھا گھنٹہ قبل پینے کے پانی میں کلورین کی گولیاں مقررہ مقدار میں حل کر کے اس کو ڈھک دیں ۔ پینے کے صاف پانی کے ساتھ ساتھ کھانے کی اشیاء کے حوالے سے بھی احتیاط کی ضرورت ہے۔ اس طرح کے موسم میں سبزیوں، پھلوں ، پیاز، لیموں وغیرہ کا استعمال زیادہ کرنا چاہئے۔ مون سون کے دوران یا بعد میں آدھی پکی ہوئی خوراک سے اجتناب کے ساتھ ساتھ بازاروں میں بیچے جانے والے کٹے ہوئے پھل، جوسز اور شربت وغیرہ کے استعمال سے پرہیز بھی ضروری ہے۔ مون سون کے بعد کی طبی پیچیدگیوں سے بچنے کےلئے ہاتھوں کو صاف رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے اور ٹائلٹ کے استعمال کے بعد یا کھانا کھانے سے قبل ہاتھوں کو صابن سے اچھی طرح رگڑ رگڑ کر دھونا چاہئے۔ مزید برآں ہاتھوں کے ناخنوں کو بھی صاف رکھنا چاہئے اور ان کو وقتاً فوقتا ً تراشتے رہنا ضروری ہے کیونکہ لمبے ناخن بھی جراثیموں کی آمجگاہ ہوتے ہیں۔ ہیضہ کے مسائل سے دوچار افراد کو زیادہ سے زیادہ پانی اور او آر ایس کا استعمال کرنا چاہئے ۔ طبی ماہرین کے مطابق پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں جیسا کہ ملیریا اور ڈینگی بخار سے بچنے کےلئے اپنے گھروں اور ان کے اردگرد کا صفائی کا خاص خیال کرنا چاہئے اور کسی جگہ پانی کو کھڑا نہ ہونے دیں تاکہ مچھر کے کاٹنے سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بھی بچا جا سکے







