لاہور۔12ستمبر (اے پی پی )وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہاہے کہ 9اور 10ستمبر کی درمیانی شب لاہور سیالکوٹ موٹروے پر ہماری بہن ، ہماری بیٹی کے ساتھ انتہائی دلخراش واقعہ رونما ہوا، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ اس اندوہناک واقعہ کے فوراً بعد میں نے او رمیری ٹیم نے بہترین صلاحتیں بروئے کار لاتے ہوئے دن رات محنت سے ملزمان تک پہنچنے کے لئے …
موٹروے واقعہ،72گھنٹے سے بھی کم وقت میں ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔عثمان بزدار

مزید خبریں
لاہور۔12ستمبر (اے پی پی )وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہاہے کہ 9اور 10ستمبر کی درمیانی شب لاہور سیالکوٹ موٹروے پر ہماری بہن ، ہماری بیٹی کے ساتھ انتہائی دلخراش واقعہ رونما ہوا، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ اس اندوہناک واقعہ کے فوراً بعد میں نے او رمیری ٹیم نے بہترین صلاحتیں بروئے کار لاتے ہوئے دن رات محنت سے ملزمان تک پہنچنے کے لئے سائنٹیفک انداز سے تفتیش کا آغاز کیا۔میں ذاتی طو رپر اس کیس پر ہونے والی پیشرفت کی نگرانی کرتارہا او رتحقیقات کو جلد ازجلد مکمل کرنے کے لئے ہدایات دیں۔ وہ ہفتہ کے روز ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ وزیراعلیٰ نے بتایاکہ 72گھنٹے سے بھی کم وقت میںہم ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیںـجن درندوں نے یہ ظلم کیاہے وہ بہت جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے او رانہیں قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دلائی جائے گیـ میں نے متاثرہ خاتون سے بھی رابطہ کیاہے ۔ان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا او رانصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ ہمارے پولیس افسران متاثرہ خاتون کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیںـ ملزمان کی گرفتاری میں مدد دینے والوںکو 25،25لاکھ روپے انعام دیا جائے گا او ران کے نام صیغہ راز میں رکھے جائیں گے ـایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ سی سی پی او کا بیان غیر ذمہ دار انہ تھا جس پر انہیں آئی جی پولیس کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری کیاگیا ہے اور7روز میں جواب مانگا گیا ہےـ غیر تسلی بخش جواب پر لیگل ایکشن ہو گاـسی سی پی او کو ایسا غیر ذمہ دارانہ بیان نہیں دینا چاہیے تھاـوزیراعلیٰ نے بتایاکہ پنجاب حکومت اس کیس کی تفتیش کے حوالے سے 28ٹیمیں تشکیل دیں او رآئندہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں گے ،اس ضمن میں میں نے پولیس اور متعلقہ اداروں کوہدایات جاری کر دی ہیںـایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ پنجاب پولیس نے صوبے میں ہونے والے سنگین جرائم کے تمام کیس ٹریس کئے ہیں اور ملزموں کو گرفتار کر کے عدالتوں میں پیش کیاہے، اس کیس کے ملزمان کو بھی عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا،سخت سے سخت سزادلائی جائے گی۔ سانحہ ساہیوال ہو یا قصور کا واقعہ تمام ملزمان گرفتار کر کے عدالت میں پیش کئے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ملزم عابد کے خلاف 7 کیس درج ہیں جبکہ وقار کے خلاف بھی 2کیس درج ہیںـ پولیس نے بہت محنت کی ہے اور ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب رہے ہیں ـمیں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم قانون کے پابند ہیں اور ہر کام قانون کے دائر ہ کار میں ہی ہوگا ۔انسپکٹرجنرل پنجاب پولیس انعام غنی نے بتایاکہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اصل ملزمان تک پہنچنے میں پوری سپورٹ دی او ران کی رہنمائی میں ہم اصل ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب رہے ہیںـ ملزم عابد ضلع بہاولنگر کی تحصیل فورٹ عباس کا رہائشی ہے جبکہ دوسرا ملزم وقار الحسن قلعہ ستار شاہ علی ٹائون کا رہنے والا ہےـرات 12بجے ملزم عابد کا ڈی این اے میچ کر گیا او رہم نے اپنی ٹیمو ں کو اس کے علاقے میں روانہ کیا اور ملزم وقار کے بارے جیسے ہی علم ہوا ہم نے اپنی ٹیموں کو روانہ کیاـملزم عابد کے نام موبائل ٹیلی فون کی 4سمیں تھیں لیکن وہ انہیں استعمال نہیں کر رہا تھا، ملزم عابد کا ایک اور نمبر ملا جس کی مدد سے دوسرے ملز م وقار الحسن کا بھی سراغ ملا جو کہ ملزم عابد کا ساتھی ہےـدونوں ملزمان ابھی فرار ہیں ،لیکن ہماری ٹیمیں ان کے پیچھے ہیںـانشاء اللہ ملزمان جلد قانون کی گرفت میں لائیں گےـصوبائی وزراء راجہ بشارت، فیاض الحسن چوہان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ ،پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ اور سیکرٹری اطلاعات بھی اس موقع پر موجود تھے۔








