فیصل آباد ۔ 17 اکتوبر (اے پی پی):ڈائریکٹر میظ ریسرچ انسٹیٹیوٹ محمد ارشد نے کہا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ سال 14لاکھ 13 ہزار ہیکٹر رقبے پر مکئی کی کاشت کی گئی جو سالانہ بنیاد پر 2.9فیصد زیادہ ہے ، فی ہیکٹر 5121کلو گرام پیداوار حاصل ہوئی جو سال قبل کی نسبت 3.1فیصد زائد رہی ، ملکی زراعت میں مکئی کا شمار اہم ترین فصلوں میں ہوتا ہے جس کی …
مکئی کی کاشت سے فی ہیکٹر5121کلوپیداوار حاصل ہوئی جو سالانہ بنیاد پر 3.1فیصد زیادہ ہے، میظ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ
فیصل آباد ۔ 17 اکتوبر (اے پی پی):ڈائریکٹر میظ ریسرچ انسٹیٹیوٹ محمد ارشد نے کہا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ سال 14لاکھ 13 ہزار ہیکٹر رقبے پر مکئی کی کاشت کی گئی جو سالانہ بنیاد پر 2.9فیصد زیادہ ہے ، فی ہیکٹر 5121کلو گرام پیداوار حاصل ہوئی جو سال قبل کی نسبت 3.1فیصد زائد رہی ، ملکی زراعت میں مکئی کا شمار اہم ترین فصلوں میں ہوتا ہے
جس کی کاشت کے رجحان میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ، مکئی کا کل کاشتہ رقبہ کا 60فیصد سے زائد پنجاب میں کاشت کیا جاتا ہے جہاں زرعی ماہرین کی خصوصی کوششوں سے جدید پیداواری ٹیکنالوجی پر عمل کے باعث اس کی پیداوار مسلسل بڑھ رہی ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے بتایاکہ پیداوار میں اضافے کی ایک وجہ ہائبرڈ اقسام کی ترویج بھی ہے، پنجاب میں زرعی زمین اور آب وہوا مکئی کی کاشت کےلئے انتہائی ساز گار ہے اسی لئے یہاں بہار اور خریف میں مکئی کی سال میں 2بار فصلیں کامیابی سے حاصل کی جاتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ مکئی کی بہاریہ فصل کو لمبے دنوں کی وجہ سے خریف کی فصل کی نسبت 20سے 25فیصد زائد پیداوار حاصل ہوتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ مکئی کی بہتر پیداوار کےلئے کھادوں کا بروقت اور متوازن و مناسب استعمال ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ کاشتکار کھادوں کا بروقت و مناسب استعمال کریں اور جب فصل کی اونچائی ایک سے ڈیڑھ فٹ تک ہو جائے تو نائٹروجنی کھاد کی پہلی قسط ایک بوری یوریا فی ایکڑ اور فصل کی اونچائی اڑھائی سے تین فٹ ہونے پر نائٹروجنی کھاد کی دوسری قسط ایک بوری یوریا فی ایکڑ جبکہ پھول آنے سے قبل نائٹروجنی کھاد کی آخری قسط ڈیڑھ بوری یوریا فی ایکڑ استعمال کرنی چاہیے۔
انہوں نے بتایاکہ مکئی کی فصل سے جڑی بوٹیوں کی تلفی کےلئے بروقت گوڈی بھی ضروری ہے، کاشتکار گوڈی کے موقع پر پودوں کے ساتھ مٹی چڑھا کر کھیلیاں بنادیں تاکہ اسے تیز ہوا یا آندھی میں نقصان نہ پہنچ سکے۔ انہوں نے گوڈی کے ساتھ ساتھ جڑی بوٹیوں کی تلفی کےلئے جڑی بوٹی مارزہروں کا ماہرین زراعت کی مشاورت سے سپرے کرنے کی بھی ہدایت کی ۔









