مکہ معاہدہ دفاعی شراکت داری کو ترقیاتی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی بنیاد بن سکتا ہے، احسن اقبال

مکہ معاہدہ دفاعی شراکت داری کو ترقیاتی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی بنیاد بن سکتا ہے، احسن اقبال

لاہور۔3ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی،ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ محض فوجی تعاون تک محدود نہیں بلکہ اسے سکیورٹی، ٹیکنالوجی، تحقیق،سرمایہ کاری، علاقائی رابطوں اور معاشی تعاون کے وسیع تر ڈھانچے کی بنیاد بننا چاہیے،پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان شراکت داری کی اصل اہمیت تینوں ممالک کی مشترکہ صلاحیتوں کو ترقی اور خوشحالی کے لیے بروئے کار لانے میں ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز یہاں یونیورسٹی آف لاہور میں ایک تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ،جس میں سیاسی و سابق عسکری حکام، بیوروکریٹس،صحافیوں،بزنس کمیونٹی کے افراد نے شرکت کی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مکہ معاہدے پر بات کرتے ہوئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ صرف دفاع کے شعبہ میں نہیں بلکہ جامعات، لیبارٹریز، ٹیکنالوجی، تحقیق اور اختراع کے شعبوں میں تعاون کا بھی ایک وسیع موقع ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ مکہ مکرمہ میں پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی معاہدہ ہوا،جس پر وزیراعظم محمد شہباز شریف،سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور صدر رجب طیب اردوان نے دستخط کئے۔انہوں نے کہا کہ معاہدے کا بنیادی اصول واضح ہے کہ ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں مکہ معاہدے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے،تاہم اسے عالمی نظام کے لیے چیلنج کے طور پر نہیں بلکہ زیادہ مستحکم علاقائی اور عالمی نظام کی جانب ایک قدم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا ایک نئے اور تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، چین ایک بڑی معاشی اور تکنیکی طاقت کے طور پر ابھر چکا ہے،روس بدستور عالمی سطح پر نمایاں اسٹریٹجک اثر و رسوخ رکھتا ہے،امریکا آج بھی دنیا کی غالب طاقتوں میں شامل ہے جبکہ یورپ اپنے دفاعی اور سکیورٹی سسٹم پر نظرثانی کر رہا ہے۔خلیجی ممالک معاشی اور سفارتی سطح پر زیادہ خود مختاری حاصل کر رہے ہیں اور ترکیہ ایک مضبوط اور خود مختار علاقائی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکا اور مشرق وسطی میں گلوبل ساتھ کے ممالک بھی اپنا موقف زیادہ مضبوطی سے پیش کر رہے ہیں۔یہ ممالک اب بڑی طاقتوں کے مقابلے کا میدان بننے کیلئے تیار نہیں بلکہ اپنی تقدیر کے فیصلے خود کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان شراکت داری کے پیچھے گہری حکمت عملی موجود ہے،سعودی عرب کے پاس وسیع معاشی وسائل،توانائی کی طاقت،مالی صلاحیت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بڑھتے ہوئے عزائم ہیں جبکہ وژن2030 کے تحت سعودی عرب میں آنے والی تبدیلی خلیج کے معاشی منظرنامے کو نئی شکل دے رہی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ترکیہ کے پاس مضبوط صنعتی بنیاد، ترقی یافتہ دفاعی صنعت اور اہم جغرافیائی حیثیت ہے۔

وہ یورپ، ایشیا اور مشرق وسطی کو ملانے والی اہم پوزیشن رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس مسلم دنیا کی بڑی نوجوان آبادی، نمایاں دفاعی صلاحیت اور اہم اسٹریٹجک جغرافیہ موجود ہے جبکہ پاکستان جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، چین، بحیرہ عرب اور خلیج کو ملانے والی اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدے کی اصل اہمیت صرف تین ممالک کی فوجی صلاحیتوں کو یکجا کرنے میں نہیں بلکہ اسے سکیورٹی، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، رابطوں اور معاشی تعاون کے وسیع ڈھانچے میں تبدیل کرنے میں ہے،جغرافیائی سیاست کو جغرافیائی معیشت کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔احسن اقبال نے کہا کہ ابھرتے ہوئے عالمی نظام کا سبق یہ نہیں کہ ممالک کو ایک بڑی طاقت کے مقابلے میں دوسری طاقت کا انتخاب کرنا ہوگا،ایک بڑی طاقت پر انحصار ختم کرکے دوسری طاقت پر انحصار کرنا مسئلے کا حل نہیں۔پاکستان کا مقصد اسٹریٹجک تنہائی نہیں بلکہ اسٹریٹجک خود مختاری ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے،امریکا کے ساتھ تعمیری تعلقات کا خواہاں ہے،یورپ کے ساتھ مزید مضبوط شراکت داری چاہتا ہے اور تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن اور باہمی مفاد پر مبنی تعلقات کا خواہشمند ہے۔پاکستان مسلم دنیا میں اپنے بھائیوں اور شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کے لیے بھی پرعزم ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی اسٹریٹجک سوچ سب سے دوستی،کسی پر انحصار نہیں کے اصول پر مبنی ہے۔ہم سب کے ساتھ امن چاہتے ہیں لیکن کسی کے سامنے کمزور نہیں ہونا چاہتے۔صرف فوجی طاقت کسی ملک کو طاقتور نہیں بنا سکتی،کمزور معیشت، درآمدی ٹیکنالوجی، غیر موثر ادارے اور کمزور تعلیم بھی قومی سلامتی کو متاثر کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قومی سلامتی اور قومی طاقت کی بنیاد معاشی پیداوار، ٹیکنالوجی،انسانی سرمائے اور سماجی ہم آہنگی پر ہے۔مکہ معاہدے کو صرف دفاعی معاہدے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس کے ثمرات مشترکہ دفاعی پیداوار،مصنوعی ذہانت،سائبر سکیورٹی،خلائی ٹیکنالوجی، توانائی،غذائی تحفظ اور اہم معدنیات تک پھیلنے چاہئیں۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان تحقیق،سرمایہ کاری اور علاقائی رابطوں میں شراکت داری ہونی چاہیے۔

پاکستان انسانی سرمایہ، ترکیہ کی ٹیکنالوجی اور سعودی سرمایہ کاری کو یکجا کیا جائے تو خطے میں بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔مکہ معاہدہ دفاعی شراکت داری کو ترقیاتی شراکت داری میں تبدیل کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ جب خود مختاری کو چیلنج کیا جائے تو قوم ہمت اور عزم کے ساتھ متحد ہو سکتی ہے۔پاکستان کی اگلی بڑی قومی جدوجہد جنگی طیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ برآمدات،تعلیم اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ہوگی۔پیداوار،ٹیکنالوجی،جدت اور ادارہ جاتی اصلاحات ہماری اگلی قومی جنگ کا میدان ہیں اور وہ اسے معرکہ ترقی یعنی ترقی کی جنگ قرار دیتے ہیں۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا 26 کروڑ آبادی کو معاشی طاقت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ہمیں لاکھوں نوجوان پاکستانیوں کو سائنسدان، انجینئر، کاروباری افراد،ہنرمند اور برآمد کنندگان بنانا ہوگا۔پاکستان کو کھپت پر مبنی معیشت سے پیداوار پر مبنی معیشت کی طرف منتقل ہونا ہوگا اور انحصار کو مسابقت میں تبدیل کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اڑان پاکستان کے تحت2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ2047 تک تین ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کا ہدف ہے۔ یہ اہداف محض معاشی اعداد وشمار نہیں بلکہ پاکستان میں درکار بڑی تبدیلی کے پیمانے کی عکاسی کرتے ہیں۔پاکستان کو اپنی آزادی کی دوسری صدی میں ایک خوشحال، پراعتماد اور بااثر ملک کے طور پر داخل ہونا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خودی صرف انفرادی اعتماد کا نام نہیں بلکہ خود شناسی،خود انحصاری اور تخلیقی صلاحیت کا فلسفہ ہے۔قوموں کے لیے خودی کا مطلب آزادانہ سوچ،آزادانہ پیداوار، جدت اور آزادانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت ہے۔میزائل دشمن کو روک سکتے ہیں لیکن قوموں کا مستقبل علم طے کرتا ہے،جنگی طیارے فضائی حدود کا دفاع کر سکتے ہیں، لیکن مستقبل ہماری جامعات محفوظ کریں گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ میزائل کئی دہائیوں تک دفاعی قوت فراہم کر سکتے ہیں لیکن تعلیم یافتہ نسل صدیوں تک قومی طاقت فراہم کرتی ہے۔نوجوان عالمی طاقت کے بدلتے ہوئے نقشے کے محض تماشائی نہیں بلکہ اس میں پاکستان کی سمت کا تعین کریں گے۔نوجوان نسل کے لیے عالمی مقابلہ مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی،کوانٹم کمپیوٹنگ،روبوٹکس، قابل تجدید توانائی، جدید مواد اور خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جو ممالک جدید ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کریں گے وہ اکیسویں صدی کے قواعد تشکیل دیں گے جبکہ ان ٹیکنالوجیز میں مہارت حاصل نہ کرنے والے ممالک دوسروں کے بنائے ہوئے قواعد کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے۔احسن اقبال نے کہا کہ ہماری ذمہ داری صرف نوجوانوں کو ڈگریاں دینا نہیں بلکہ انہیں مسائل حل کرنے کی صلاحیت دینا ہے۔ہماری جامعات کو قومی تبدیلی کی تجربہ گاہیں بننا ہوگا،محققین کو مشکل ترین سوالات اٹھانے ہوں گے اور ماہرین معیشت کو روایتی سوچ کو چیلنج کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ غلط معلومات اور سیاسی تقسیم کے دور میں سماجی ہم آہنگی بھی قومی سلامتی کا حصہ بن چکی ہے،میڈیا کو تعمیری مکالمے کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

کوئی بیرونی دشمن اس قوم کو مستقل کمزور نہیں کر سکتا جو خود پر یقین رکھتی ہو تاہم کوئی فوج اس قوم کا مستقل دفاع نہیں کر سکتی جو اندرونی طور پر تقسیم اور احساس کمتری کا شکار ہو۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مکہ معاہدہ اس کے رکن ممالک پر نئی ذمہ داریاں بھی عائد کرتا ہے۔پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ کو ثابت کرنا ہوگا کہ بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک صلاحیت زیادہ ذمہ داری پیدا کرتی ہے،زیادہ محاذ آرائی نہیں۔تینوں ممالک کی مشترکہ طاقت کو سفارتکاری کی حمایت اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدے کو مشرق وسطی اور اس سے آگے استحکام کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے اور فلسطینی عوام کے لیے انصاف کی آواز مضبوط بنانی چاہیے۔مسلم دنیا کو ایسے ادارے تشکیل دینے چاہئیں جو بحرانوں کا جواب دینے کے ساتھ ساتھ انہیں روکنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔احسن اقبال نے کہا کہ اکیسویں صدی کا مستقبل بیسویں صدی کے فوجی بلاکس کی تشکیل نو نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس صدی میں ذمہ دار خود مختاری کے نئے علاقائی اور عالمی نیٹ ورک تشکیل دینے ہوں گے۔انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ پاکستان اپنی نوجوان افرادی قوت، علم، ٹیکنالوجی، پیداوار اور علاقائی شراکت داری کو بروئے کار لا کر ترقی اور خوشحالی کی نئی منزلیں حاصل کر سکتا ہے۔