مکہ مکرمہ میں ہونے والے معاہدے پر پوری قوم کو فخر ،اب پاکستان کی اگلی منزل معاشی میدان میں نمایاں ترقی حاصل کرنا ہے ،علی پرویز ملک

وفاقی وزیر مملکت برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کی 79ویں سالگرہ کے موقع پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں ملک کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے ہمیشہ قومی مفادات کو مقدم رکھا، سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے پاکستان …

لاہور۔9اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر مملکت برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کی 79ویں سالگرہ کے موقع پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں ملک کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے ہمیشہ قومی مفادات کو مقدم رکھا، سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا جبکہ موجودہ حکومت نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں معاشی استحکام کی راہ ہموار کی ۔

اتوار کو یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سفارتی کاوشوں کے نتیجے میں مکہ مکرمہ میں ہونے والا معاہدہ پاکستان کے لیے ایک اہم کامیابی ہے جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب پاکستان کی اگلی منزل معاشی میدان میں نمایاں ترقی حاصل کرنا ہے اور حکومت اسی مقصد کے لیے جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان آج خطے میں ایک ذمہ دار اور موثر نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر کے طور پر ابھر رہا ہے، سعودی عرب کی معاشی قوت، ترکیہ کی صنعتی و اقتصادی ترقی اور پاکستان کی مضبوط دفاعی صلاحیت خطے کے امن، استحکام اور ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔وزیر مملکت نے کہا کہ موجودہ حکومت نے انتہائی مشکل معاشی حالات میں ذمہ دارانہ فیصلے کیے، ایک وقت ایسا تھا جب یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ پاکستان دیوالیہ ہونے جا رہا ہے مگر وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے معاشی نظم و ضبط قائم کیا اور آج عالمی سطح پر یہ بات ہو رہی ہے کہ پاکستان کو مزید ترقی کی راہ پر کیسے گامزن کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور عالمی حالات کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، ڈیزل اور پٹرول کی عالمی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا، تاہم حکومت نے ایسے حالات میں بھی ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا نہیں ہونے دی۔علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت نے محدود وسائل کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کی اور اپنی استطاعت کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو قابو میں رکھا۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی عالمی حالات میں بہتری آئی وزیر اعظم نے عوام کو ریلیف فراہم کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا نظام شفاف بنایا ہے اور آج ہر شہری اوگرا کی ویب سائٹ پر جا کر قیمتوں کی تفصیلات اور متعلقہ شیٹس دیکھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریبا 90 فیصد درآمدات سے پورا کرتا ہے جو ملکی معیشت پر بڑا بوجھ ہے۔وزیر مملکت نے سوال اٹھایا کہ گزشتہ آٹھ دہائیوں میں ملک میں مقامی تیل و گیس کے وسائل کی ترقی پر خاطر خواہ توجہ کیوں نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو روزانہ تقریبا پانچ لاکھ بیرل تیل کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ مقامی پیداوار صرف ستر ہزار بیرل یومیہ کے قریب ہے، اسی طرح لیوی کی مد میں وسائل جمع ہوتے رہے مگر تیل کے سٹریٹجک ذخائر قائم نہیں کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ہدایت پر عالمی شہرت یافتہ کمپنی کو پاکستان کے توانائی کے شعبے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے جو آئندہ چند ماہ میں اپنی سفارشات حکومت کے سامنے پیش کرے گی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ ریفائنری پالیسی کی منظوری دے چکی ہے تاکہ ملک میں ریفائننگ کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ماضی میں تیل کی کمپنیوں کے تقریبا پندرہ سو ارب روپے کے واجبات بروقت ادا کیے جاتے تو سرمایہ کاروں کا اعتماد زیادہ مضبوط ہوتا۔علی پرویز ملک نے کہا کہ موجودہ حکومت نے صرف ایک سال کے اندر گردشی قرضے کے بہا ئوکو روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے اور اب اس میں مزید اضافہ نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کے نتیجے میں تقریبا پندرہ سو ارب روپے کا اضافی بوجھ چھوڑ کر گئی تھی جسے موجودہ حکومت مرحلہ وار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ترکیہ کی معروف کمپنی ترکش پٹرولیم پاکستان کے سمندری علاقوں میں آف شور ڈرلنگ کا آغاز کرنے جا رہی ہے جس کے نتیجے میں تقریبا 120 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایل پی جی کی ٹینڈرنگ بھی کھولی جا رہی ہے جبکہ گیس کے شعبے میں نئے کنکشنز کا اجرا بھی موجودہ حکومت نے دوبارہ شروع کیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر مملکت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات، مقامی وسائل کی تلاش، سرمایہ کاری کے فروغ اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

مزید خبریں