اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):پاکستان میں تارکین وطن کی سمگلنگ کے سدباب کے لیے بین الاقوامی سطح پر بڑی پیش رفت کرتے ہوئے وزارت داخلہ نے اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں 30 ممالک کے نمائندوں، عالمی اداروں اور شراکت دار تنظیموں نے شرکت کی۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ مہاجرین کی سمگلنگ ایک …
مہاجرین کی سمگلنگ ایک عالمی چیلنج ہے، مسئلے کا حل بین الاقوامی تعاون اور بروقت معلومات کے تبادلے سے ہی ممکن ہے، طلال چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):پاکستان میں تارکین وطن کی سمگلنگ کے سدباب کے لیے بین الاقوامی سطح پر بڑی پیش رفت کرتے ہوئے وزارت داخلہ نے اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں 30 ممالک کے نمائندوں، عالمی اداروں اور شراکت دار تنظیموں نے شرکت کی۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ مہاجرین کی سمگلنگ ایک عالمی چیلنج ہے اور اس مسئلے کا حل صرف مربوط حکمت عملی، بین الاقوامی تعاون اور بروقت معلومات کے تبادلے سے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان غیر قانونی ہجرت کے خاتمے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اور خطے میں محفوظ اور قانونی ہجرت کے فروغ کے لیے ہمیشہ پرعزم رہے گا۔طلال چوہدری نے کہا کہ انسانی سمگلنگ کے منظم نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات اور تعاون ناگزیر ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس میں 30 ممالک کے نمائندوں کی شرکت پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے جو عالمی سطح پر پاکستان کے اہم کردار کا اعتراف ہے۔
یہ کانفرنس وزارت داخلہ نے اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) اور بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کے اشتراک سے اور بین الاقوامی شراکت داری کے تحت منعقد کی۔ کانفرنس کے دوران انسانی سمگلنگ کے خلاف موثر اقدامات، بہترین تجاویز اور عالمی سطح پر اپنائی جانے والی حکمت عملیوں کا تبادلہ بھی کیا گیا۔
بین الاقوامی شراکت داروں نے انسانی سمگلنگ کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔کانفرنس سے قبل وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم کے علاقائی نمائندہ برائے افغانستان، وسطی ایشیا، ایران اور پاکستان ڈاکٹر اولیور اسٹولپ سے ملاقات بھی کی جس میں انسانی اسمگلنگ کے خاتمے، ادارہ جاتی اصلاحات اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔








