"کاروباری برادری گاڑیوں کو عام آدمی کی دسترس میں لانے اور مقامی آٹو صنعت کے فروغ کی حکومتی پالیسیوں کو سراہتی ہے، عثمان شوکت”
نئی آٹو پالیسی کا خیرمقدم، ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی سے مقامی صنعت کو فروغ ملے گا، عثمان شوکت

مزید خبریں
راولپنڈی۔ 16 جولائی (اے پی پی):راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آر سی سی آئی) کے صدر عثمان شوکت نے’’ اے پی پی‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری حکومت کی جانب سے گاڑیوں کو عام آدمی کی دسترس میں لانے، مقامی صنعت کے فروغ اور ماحول دوست پالیسیوں پر خصوصی توجہ کو سراہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیرف کے سادہ اور مؤثر نظام سے آٹو انڈسٹری کو درپیش دیرینہ لاگتی مسائل میں نمایاں کمی آئے گی، جبکہ سات سالہ آسان فنانسنگ، صرف 15 فیصد ڈاؤن پیمنٹ کی شرط اور دیگر سہولیات متوسط طبقے کے لیے نئی گاڑیوں کی خریداری کو آسان بنائیں گی۔عثمان شوکت نے کہا کہ اس پالیسی کی حقیقی کامیابی اس وقت ممکن ہوگی جب ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس کو اس کے نفاذ سے قبل اور عملدرآمد کے دوران باقاعدہ اعتماد میں لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی صنعت کاروں کو ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کے مرحلہ وار شیڈول، نفاذ کے ٹائم لائن اور مقامی پرزہ جات (لوکل کنٹینٹ) کے واضح معیار سے آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ مراعات سے درآمدات پر انحصار بڑھنے کے بجائے حقیقی معنوں میں مقامی صنعت کو فروغ مل سکے۔ایک سوال کے جواب میں آر سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ 2030 تک نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کا تناسب 30 فیصد تک بڑھانے کا ہدف قابلِ تحسین ہے، تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی ناگزیر ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ مقامی آٹو ساز ادارے گرین ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ الیکٹرک گاڑیوں کے اہم پرزہ جات کی ڈیوٹی فری درآمد سے متعلق پالیسیوں میں تسلسل اور تحفظ کو یقینی بنایا جائے، تاکہ ماحول دوست آٹو انڈسٹری کے فروغ کا ہدف کامیابی سے حاصل کیا جا سکے۔








