اسلام آباد ۔ 15 فروری (اے پی پی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق نئے پاکستان میں ہر شہری کو بلاتفریق صحت کی بنیادی سہولتیں میسر کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، حکومت اس ضمن میں انقلابی اقدامات اٹھا رہی ہے، حکومت کی 37 ارب روپے کی ہیلتھ انشورنس اسکیم سے غریب لوگ علاج …
نئے پاکستان میں ہر شہری کو بلاتفریق صحت کی بنیادی سہولتیں میسر کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی پی ٹی وی پروگرام میں خصوصی گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 15 فروری (اے پی پی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق نئے پاکستان میں ہر شہری کو بلاتفریق صحت کی بنیادی سہولتیں میسر کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، حکومت اس ضمن میں انقلابی اقدامات اٹھا رہی ہے، حکومت کی 37 ارب روپے کی ہیلتھ انشورنس اسکیم سے غریب لوگ علاج کی فکر سے آزاد ہوں گے، پورے پاکستان میں 50 لاکھ غریب خاندانوں کو صحت انصاف کارڈز جاری کر دیئے ہیں اور آئندہ سال کے آخر تک ڈیڑھ کروڑ غریب خاندانوں تک صحت انصاف کارڈز پہنچانا ہدف ہے، وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں 2023ء تک صحت کے شعبے میں عوام کو نمایاں تبدیلیاں نظر آئیں گی، صحت مند اور روشن مستقبل پاکستان کا منتظر ہے اور ہم مل جل کر تمام اہداف حاصل کرنے کیلئے پر اعتماد ہیں۔ ہفتہ کو پی ٹی وی کے پروگرام ”صحت مند پاکستان، نیا پاکستان” میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ حکومت کا صحت مند پاکستان کیلئے ویژن واضح اور شفاف ہے، نئے پاکستان میں ہر شہری صحت مند ہو اور لوگوں کو صحت کی بنیادی سہولتیں میسر کرنا ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ملک کی آدھی آبادی غربت کا شکار ہے جو صحت کی سہولتیں خریدنے کی اہلیت نہیں رکھتے، ماضی میں لوگ علاج کیلئے قرض لیتے اور اپنی جائیدادیں بیچتے آتے ہیں، غربت کی وجہ سے کسی کی جان نہیں جانی چاہیے اسلئے حکومت ماضی میں نظر انداز کئے گئے فاٹا اور تھرپارکر سمیت دیگر علاقوں کے لوگوں کو بھی علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، اسی سلسلے میں فاٹا کے تمام اضلاع اور تھرپارکر میں بھی غریب خاندانوں کو صحت انصاف کارڈز جاری کر دیا گیا ہے تاکہ ان لوگوں کو علاج کی فکر نہ ہو۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ قومی سطح پر اسینشل پییکج آف ہیلتھ سروسز متعارف کرا رہے ہیں جس سے تخمینہ لگایا جائے گا کہ ملک میں لوگ زیادہ تر کن بیماریوں سے متاثر ہیں اور اس کا اطلاق تمام سرکاری ہیلتھ فیسیلیٹیز کے اندر ہو گا، اسی حوالے سے اسلام آباد میں ایک ماڈل ہیلتھ کیئر سسٹم بنا رہے ہیں جس کے بعد اسے صوبوں میں بھی متعارف کرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے پرائمری ہیلتھ کیئر کو نظر انداز کیا، موجودہ حکومت کی تمام تر توجہ پرائمری ہیلتھ کیئر کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے تاکہ لوگوں کو ان کے گھروں کے نزدیک صحت کی بہترین سہولتیں دستیاب ہو سکیں اس سے کافی حد تک لوگوں کی شکایتوں کا ازالہ ہو سکے گا۔ معاون خصوصی برائے صحت نے کہا کہ یونیورسل ہیلتھ کوریج حکومت کا ایک جامع پروگرام ہے جس میں صرف علاج معالجہ نہیں بلکہ بیماریوں سے بچائو، صحت کی ترویج اور صحت کی بحالی بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی بہت بڑا مسئلہ ہے اس کو کنٹرول کرنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔








