اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت وسماجی تحفظ کوبتایاگیاہے کہ آزاد کشمیر میں نئے ڈیجیٹل والٹ سسٹم کی پائلٹ لانچ جنوری یا فروری میں متوقع ہے،مارچ 2026 تک سسٹم سے دس ملین افراد کے مستفید ہونے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت وسماجی تحفظ کا اجلاس پیر کو یہاں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہوا۔ اجلاس میں ملک …
نئے ڈیجیٹل والٹ سسٹم کی آزاد کشمیر میں لانچ جلد متوقع ، مارچ 2026 تک10 ملین افراد کے مستفید ہونے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت کوبریفنگ
اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت وسماجی تحفظ کوبتایاگیاہے کہ آزاد کشمیر میں نئے ڈیجیٹل والٹ سسٹم کی پائلٹ لانچ جنوری یا فروری میں متوقع ہے،مارچ 2026 تک سسٹم سے دس ملین افراد کے مستفید ہونے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت وسماجی تحفظ کا اجلاس پیر کو یہاں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہوا۔ اجلاس میں ملک کی بنیادی سماجی بہبود کی مہمات کے عملی جدول اور مالی استحکام کا جائزہ لیاگیا۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے سیکرٹری نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ادارہ اپنے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے طے شدہ شیڈول سے آگے ہے، نئے ڈیجیٹل والٹ سسٹم کی پائلٹ لانچ جنوری یا فروری میں آزاد کشمیر میں متوقع ہے جبکہ 10ملین مستفید افراد تک اس کی تکمیل کا ہدف مارچ 2026 مقرر کیا گیا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے قائم مقام گورنر نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ محدود مینڈیٹڈ اکاؤنٹس سے منسلک 3.7 ملین سیمز جاری کی جا چکی ہیں اور ڈیجیٹل والٹس ایکٹیویٹ کر دیئے گئے ہیں۔
انہوں نے تصدیق کی کہ بی آئی ایس پی کی اگلی سہ ماہی قسطیں اسی طریقہ کار کے مطابق جاری کی جائیں گی، باہمی ہم آہنگی کے اہم معاملے پر ون لنک کے لئے ایک مربوط حل پیش کرنے کی مدت تین ماہ مقرر کی گئی ہے جس کے بعد مستفید افراد اپنے والٹس کا استعمال آن لائن ادائیگیوں اور چھ پارٹنر بینکس کے اے ٹی ایمز یا پوائنٹ آف سیل ایجنٹس سے نقد رقم نکالنے کے لئے کر سکیں گے۔
سیکرٹری نے کمیٹی سے مستفید افراد کو مسلسل بینکنگ تک رسائی فراہم کرنے میں معاونت کی درخواست کی اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ساتھ موجودہ معاہدے کی طرز پر ون لنک کے ساتھ اسی نوعیت کے انتظام کی تجویز پیش کی تاکہ ادائیگیوں کو ہموار بنایا جا سکے۔ اجلاس میں پاکستان بیت المال نے بجٹ میں کمی کا معاملہ اٹھایا۔ ڈائریکٹر فنانس نے کمیٹی کو بتایا کہ ادارے کا مختص کردہ بجٹ 14.2 ارب روپے ہے جو کہ اصل ضرورت 18.5 ارب روپے کے مقابلے میں ناکافی ہے اور موجودہ سہ ماہی کا بجٹ پہلے ہی ختم ہو چکا ہے۔
اس مالی دباؤ کے باوجود پی بی ایم بورڈ نے امدادی حد میں نمایاں اضافے کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت مستفید افراد کی مالی امداد کی ماہانہ حد 37,000 سے بڑھا کر 74,000 روپے اور تعلیمی مشاہیرہ 100,000 سے بڑھا کر 150,000 روپے کر دیا گیا ہے۔ پی بی ایم کے منیجنگ ڈائریکٹر نے بتایا کہ تقریباً 38-39 فیصد پی بی ایم گرانٹس طبی امداد پر خرچ کی جاتی ہیں اور ادارے نے 27 ۔ 2026 کے مالی سال کے لئے اپنی بجٹ کی ضروریات جمع کرا دی ہیں جس میں افراط زر کے دباؤ اور بڑھتی ہوئی طبی اخراجات کو شامل کیا گیا ہے۔
انہوں نے حکومت سے اس اضافے کی منظوری پر اعتماد کا اظہار کیا تاکہ پی بی ایم کمزور طبقات کی زیادہ وسیع خدمت کر سکے ۔ کمیٹی نے احتساب اور نگرانی کو مضبوط بنانے کے لئے متعدد ہدایات جاری کیں۔پاکستان بیت المال کو ہدایت کی گئی کہ وہ بدعنوانی کے باعث بلیک لسٹ ہسپتالوں کی تفصیلی رپورٹ پیش کرے اور اپنے ہسپتال ڈیسک سٹاف پر جانبدارانہ رویے کے الزامات کی تحقیقات کرے جن پر مستفید افراد کو معلومات فراہم کرنے میں امتیازی سلوک کا الزام ہے۔
کمیٹی نے ہسپتالوں کے نیٹ ورک یا پی بی ایم کی سرگرمیوں میں فنڈز کی ممکنہ بے ضابطگیوں کا پتہ لگانے کے لئے ایک مضبوط ثانوی آڈٹ میکانزم کی ضرورت پر زور دیا۔ مزید برآں کمیٹی نے بی آئی ایس پی سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام میڈیا آؤٹ لیٹس کی مکمل فہرست فراہم کرے جہاں 240 ملین روپے کی تشہیر کی گئی، نیز تمام مشاورت کاروں کے معاہدوں کی مدت اور معاوضے کی تفصیلات، اور پروگرام میں تعینات 134 ڈیپورٹیشنز کا صوبائی اور محکماتی تجزیہ پیش کرے۔
پاکستان بیت المال کے منیجنگ ڈائریکٹر نے پیشہ وارانہ اقدامات کو اجاگر کیا جس میں 20,000 خواتین کے لئے تربیتی پروگرام شامل ہیں جن میں اگلا گروپ چھ ماہ میں شروع ہوگا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ قومی اور بین الاقوامی مارکیٹ کے لئے کورسز کا اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے علاقائی عدم مساوات کی طرف بھی توجہ دلائی، کمیٹی سے نوزائیدہ بچوں میں سماعت کی سکریننگ کو لازمی قرار دینے کے لئے قانون سازی میں تعاون کی درخواست کی گئی تاکہ بروقت طبی مداخلت ممکن ہو سکے۔
کمیٹی نے اختتام پر اس بات پر زور دیا کہ نظامی رکاوٹیں، خاص طور پر پی بی ایم کے مالی وسائل کی کمی اور انسانی وسائل کے چیلنجز، سماجی تحفظ کی کارکردگی کو شدید متاثر کر رہے ہیں۔ کمیٹی نے قرار دیا کہ اگلا اجلاس کراچی میں منعقد کیا جائے گا جس میں چھ پارٹنر بینکس، ون لنک (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے سربراہان کو اکٹھا کرکےبی آئی ایس پی ڈیجیٹل والٹ منصوبے کی پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا اور سٹریٹجک ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے گا۔
اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی میر غلام علی تالپور، محمد الیاس چوہدری، صبا تالپور، آسیہ اسحاق صدیقی، مصباح الدین، شاہد عثمان، حما اختر چغتائی، نائمہ کنول، کمیٹی کی چیئرپرسن، بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد، منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال کیپٹن (ر) شاہین خالد بٹ، سیکرٹری وزارت تخفیف غربت و سماجی تحفظ، سیکرٹری بی آئی ایس پی اور بی آئی ایس پی و و پاکستان بیت المال کےسینئر افسران نے شرکت کی۔









