نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار کی چین کے وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات، خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے پانچ نکاتی اقدام پیش

اکستان اور چین نے تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو واحد قابل عمل راستہ قرار دیتے ہوئے خلیج اور مشرق وسطیٰ میں فوری جنگ بندی، ایران اور خلیجی ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، قومی آزادی اور سلامتی کا تحفظ کرنے اور مذاکرات کے دوران طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کرنے پر زور دیا ہے

بیجنگ۔31مارچ (اے پی پی):پاکستان اور چین نے تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو واحد قابل عمل راستہ قرار دیتے ہوئے خلیج اور مشرق وسطیٰ میں فوری جنگ بندی، ایران اور خلیجی ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، قومی آزادی اور سلامتی کا تحفظ کرنے اور مذاکرات کے دوران طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کرنے پر زور دیا ہے اور خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے پانچ نکاتی اقدام پیش کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں دفتر خارجہ کی طرف سے منگل کو جاری بیان کے مطابق چین کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کے رکن اور عوامی جمہوریہ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے منگل کو یہاں بیجنگ میں ملاقات کی جس میں خلیج اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

بیان کے مطابق فریقین نے فوری جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان فوری جنگ بندی اور تنازع کے پھیلائو کو روکنے کے لیے بھرپور کوششوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے تمام متاثرہ علاقوں میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا ۔جلد از جلد امن مذاکرات پر زور دیتے ہوئے دونوں ممالک نے ایران اور خلیجی ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، قومی آزادی اور سلامتی کا تحفظ کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد قابل عمل راستہ ہے۔

چین اور پاکستان نے متعلقہ فریقین کی مذاکرات کے آغاز میں حمایت کرتے ہوئے زور دیا کہ تمام فریق پرامن حل کے لیے پرعزم رہیں اور مذاکرات کے دوران طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کریں۔ دونوں ممالک نے غیر فوجی اہداف کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلح تنازعات میں شہریوں کے تحفظ کے اصولوں کی مکمل پاسداری کی جائے۔ چین اور پاکستان فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ شہریوں اور غیر فوجی اہداف پر حملے فوری طور پر بند کریں، بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پابندی کریں اور توانائی، پانی صاف کرنے کے پلانٹس اور بجلی کی تنصیبات سمیت اہم انفراسٹرکچر، نیز پرامن جوہری تنصیبات پر حملوں سے باز رہیں۔

بیان میں سمندری گزرگاہوں کے تحفظ کے حوالے سے کہا گیا کہ آبنائے ہرمز اور اس سے ملحقہ پانی عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہیں۔ چین اور پاکستان فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہاں موجود جہازوں اور عملے کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے، شہری و تجارتی جہازوں کی جلد اور محفوظ آمدورفت ممکن بنائی جائے اور اس راستے پر معمول کی نقل و حرکت جلد بحال کی جائے۔ بیان میں اقوام متحدہ کے چارٹر کی بالادستی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا گیا کہ چین اور پاکستان حقیقی کثیرالجہتی نظام کے فروغ، اقوام متحدہ کے کردار کو مضبوط بنانے اور ایک جامع امن فریم ورک کے قیام کے لیے معاہدے کی حمایت کرتے ہیں تاکہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی بنیاد پر پائیدار امن حاصل کیا جا سکے۔