ناسا کی سوئفٹ خلائی رصدگاہ 22 سال بعد بدھ کو زمین کے مدار سے فضا میں داخل ہو کر ختم ہو جائے گی

امریکی خلائی ادارے ناسا نے کہا ہے کہ اس کی نیل گیہرلز سوئفٹ خلائی رصدگاہ 22 سال بعد بدھ کو زمین کے مدار سے فضا میں داخل ہو کر ختم ہو جائے گی۔شنہوا کے مطابق ناسا کی جانب سےجاری بیان کے مطابق سوئفٹ رصدگاہ 2004 میں خلا میں بھیجی گئی تھی۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی کثیر طولِ موج رصدگاہ تھی، جسے کائنات کے طاقتور ترین دھماکوں میں شمار ہونے …

واشنگٹن ۔3نومبر (اے پی پی):امریکی خلائی ادارے ناسا نے کہا ہے کہ اس کی نیل گیہرلز سوئفٹ خلائی رصدگاہ 22 سال بعد بدھ کو زمین کے مدار سے فضا میں داخل ہو کر ختم ہو جائے گی۔شنہوا کے مطابق ناسا کی جانب سےجاری بیان کے مطابق سوئفٹ رصدگاہ 2004 میں خلا میں بھیجی گئی تھی۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی کثیر طولِ موج رصدگاہ تھی، جسے کائنات کے طاقتور ترین دھماکوں میں شمار ہونے والے گاما شعاعوں کے دھماکوں (گاما رے برسٹس) کا مطالعہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

اس مقصد کے لیے اس میں تین دوربینیں نصب تھیں۔امریکی خلائی فورس کی پیش گوئی کے مطابق تقریباً 3,200 پاؤنڈ (1,450 کلوگرام) وزنی خلائی جہاز4 نومبر بدھ کو مشرقی امریکی وقت کے مطابق صبح 3 بجکر 30 منٹ پر زمین کی فضا میں داخل ہو سکتا ہے، تاہم اس وقت میں 11 گھنٹے تک فرق کا امکان ہے۔

ناسا کو توقع ہے کہ خلائی جہاز کے بیشتر حصے فضا میں داخل ہوتے ہی جل کر ختم ہو جائیں گے، تاہم بعض اجزا زمین تک پہنچ سکتے ہیں۔ناسا کے مطابق فضا میں دوبارہ داخلے کے وقت کی بنیاد پر خلائی جہاز کا بچ جانے والا ملبہ جنوبی عرض البلد 20.6 ڈگری سے شمالی عرض البلد 20.6 ڈگری کے درمیان کسی علاقے میں گر سکتا ہے، تاہم زمین پر کسی شخص کو نقصان پہنچنے کا امکان انتہائی کم، تقریباً 2,100 میں سے ایک ہے۔

ناسا نے ایک تجارتی خلائی جہاز کے ذریعے سوئفٹ کی آپریشنل مدت بڑھانے کی کوشش کی تھی، تاہم سروس فراہم کرنے والے خلائی جہاز کو تکنیکی مسائل کا سامنا ہونے اور ایندھن کم ہونے کے باعث اس منصوبے کو محدود کرکے ٹیکنالوجی کے تجربات تک محدود کر دیا گیا۔ناسا نے 23 اکتوبر کو بتایا تھا کہ سوئفٹ کا مدار مسلسل نیچے آنے کے باعث اس کا سائنسی مشن ختم کر دیا گیا ہے۔

ناسا کے مطابق سوئفٹ کو ابتدا میں دو سالہ بنیادی مشن کے لیے تیار کیا گیا تھا، تاہم اس نے دو دہائیوں سے زائد عرصے تک خدمات انجام دیں۔ اس دوران اس نے کائنات کے مطالعے کے لیے متعدد سائنسی آلات کے طور پر کام کیا، مختلف اقسام کی روشنی کا مشاہدہ کیا، مختصر دورانیے کے کائناتی دھماکوں کی سمت تیزی سے اپنی دوربینیں مرکوز کیں اور دیگر تحقیقی مراکز کو فوری اطلاعات فراہم کیں تاکہ مزید مشاہدات میں رابطہ کاری ممکن ہو سکے۔